ہاتھ گِٹّوں تک دھونا) محتاجی (تنگدستی ) دور کرتا ہے اور یہ مُرسلین (یعنی رسولوں ) علَیھمُ السّلامکی سنّتوں میں سے ہے۔ (مُعْجَم اَوْسَط ج۵ص۲۳۱حدیث۷۱۶۶)
تنگدستی کا علاج
زبردست مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِدعَلَیہ ِرَحْمۃ ُاللہ ِانْماجِدکو خلیفۂ بغداد مامون رشید نے اپنے ہاں مدعو کیا، طَعام(یعنی کھانے) کے آخِر میں کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِّثِ صاحِب چُن چُن کر تناوُل فرمانے(یعنی کھانے) لگے۔ مامون نے حیران ہوکر کہا: اے شیخ! کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا: کیوں نہیں ! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے: ’’جو شخص دسترخوان کے نیچے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو کھائے گا وہ فقر (یعنی تنگدستی) سے بے خوف ہوجائے گا۔‘‘ (تاریخ اصبھان للاصبہانی ج۲ص۳۳۳)
روزی میں بَرَکت کا بِہترین نُسخہ
حضرتِ سیِّدُنا سَہل بن سَعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبُوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ با بَرَکت میں حاضِر ہو کر اپنی تنگدستی کی شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’ جب تم گھر میں داخِل ہونے لگواور گھر میں کوئی ہو تو سلام کر کے داخِل ہوا کرواور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو مجھ پر سَلام عرض کرواور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُ شریف پڑھو۔‘‘ اُس شَخص نے ایسا ہی کیا پھر