عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے رحمت ومغفرت کی بھیک حاصل کرنے کے لیے دست دراز کیے بیٹھا تھا بہت سی آنکھیں خوفِ خدا کے باعث اشک بہارہی تھیں اور فضاء خائفین کے رونے کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔ خوفِ خدا میں رونے والے عاشقانِ رسول کی پر سوز صداؤں نے مجھ پر ایسی رقت طاری کی کہ میری حالت بھی غیر ہو گئی، روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں ، آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔میں نے زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کی اور گناہوں بھری زندگی چھوڑ کر دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے رشتہ جوڑنے کا عزمِ مُصَمَّم کرلیا۔اختتامِ دعا پرمیں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا گویا ایک بہت بھاری وزن میرے دل و دماغ سے اُتر گیا ہو۔ ایک عجب کیف و سرور کی کیفیت مجھ پر طاری تھی، نیکیوں سے محبت میرے دل میں پیدا ہو چکی تھی۔ چنانچہ میں نے اجتماع سے واپسی پر نمازوں کی پابندی شروع کر دی اور نیکی کی دعوت کی بھی دھومیں مچانے لگا۔ میرے اندر برپا ہونے والے مدنی اِنقلاب نے ہر آنکھ کو حیرت میں ڈال دیا تھا لیکن یہ حقیقت تھی کہ میں سُدھرنے کے لئے کمر بستہ ہو چکا تھا اور امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کو اپنا نصبُ العَین بنالیا تھا۔ سنّتوں پر عمل کے ساتھ ساتھ دوسروں کو سنّتوں پر عمل کی