کبھی کسی مجلس (یعنی بیٹھک )میں کسی کی طرف پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے،نہ اولاد کی طرف نہ اَزواجِ پاک کی طرف نہ غلاموں خادِموں کی طرف (مراۃ ج ۸ ص ۸۰) ٭حضرتِ سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے کبھی اپنے اُستادِ محترم حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کے مکانِ عالی شان کی طرف پاؤں نہیں پھیلائے ان کے احترام اور اکرام کی وجہ سے، آپ (یعنی استاذِگرامی قدس سرہ السامی) کے گھرمبارک اور میری رہائش گاہ میں چند گلیوں کا فاصلہ ہونے کے باوُجُود میں نے کبھی اُدھر پاؤں نہیں پھیلائے (مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ للموفق حصّہ۲ ص۷ )٭آنے والے کیلئے سَرکنا (کِھسکنا) سنّت ہے: بہارِشریعت جلد 3صَفحَہ 432پر حدیث نمبر6 ہے : ایک شخص رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) مسجِد میں تشریف فرما تھے۔ اس کے لیے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اپنی جگہ سے سرک گئے اس نے عَرْض کیا، یارسول اللّٰہ ! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) جگہ کشادہ موجود ہے، (حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو سرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضَرورت نہیں ) ارشاد فرمایا: مسلم کا یہ حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے، اس کے لیے سرک جائے (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۴۶۸ حدیث۸۹۳۳)٭ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : ’’جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور اُس پر سے سایہ رخصت ہوجائے اور وہ کچھ دھوپ کچھ چھاؤں میں رہ جائے تو اسے چاہیے کہ