شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عُمُوماً قِبلہ رُو ہوکر بیٹھتے تھے (احیاء العلوم ج۲ ص۴۴۹)٭ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:’’مجالِس میں سب سے مُکرّم (یعنی عزّت والی ) مجلس(یعنی بیٹھنا ) وہ ہے جس میں قبلے کی طرف مُنہ کیا جائے‘‘ (طَبَرانی اَ وْسَط ج ۶ ص ۱۶۱ حدیث ۸۳۶۱ )٭حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اکثر قِبلے کومُنہ کرکے بیٹھتے تھے (اَلْمَقاصِدُ الْحَسَنۃ ص۸۸ )٭ مُبلِّغ اور مُدرِّس کیلئے دورانِ بیان و تَدریس سُنّت یہ ہے کہ پیٹھ قِبلے کی طرف رکھیں تاکہ ان سے عِلم کی باتیں سننے والوں کا رُخ جانبِ قبلہ ہوسکے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ حافِظ سَخاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قِبلے کو اس لئے پیٹھ فرمایا کرتے تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنہیں عِلْم سکھارہے ہیں یا وَعْظ فرمارہے ہیں اُن کا رُخ قبلے کی طرف رہے (اَلْمَقاصِدُ الْحَسَنۃ ص ۸۸ )٭ حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے بے چین دلوں کے چَین،رَحْمتِ دارین، سرورِ کَونَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کبھی نہ دیکھا گیا کہ اپنے ہم نشین کے سامنے گُھٹنے پھیلا کر بیٹھے ہوں ( تِرمِذی ج۴ ص۲۲۱ حدیث ۲۴۹۸ ) حدیثِ پاک میں ’’رُکْبَتَیْن‘‘(یعنی گھٹنے) کا لفظ ہے اس سے مرادایک قول کے مطابق ’’ دونوں پاؤں ‘‘ ہیں جیساکہ مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تَحْت فرماتے ہیں : یعنی حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ