نقصان کیا اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے عذاب دے اور چاہے تو بخش دے (اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۲ ص ۱۶۸ حدیث ۱۸۶۹)٭حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے کہ میں نے سیِّدُ الْمُرسَلین ، خاتَمُ النَّبِیِّین ، جنابِ رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کعبہ شریف کے صِحْن میں اِحتِبا (اِحْـتِ ـبا) کی صورت میں تشریف فرما دیکھا۔( بُخاری ج ۴ ص ۱۸۰ حدیث ۶۲۷۲)اِحتِباکا مطلب یہ ہے کہ آدمی سُرِیْن کے بل بیٹھے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو دونوں ہاتھوں کے حلقے میں لے لے۔اس قسم کابیٹھنا تَواضُع (یعنی عاجِزی و انکساری )میں شمار ہوتا ہے (مُلَخَّص ازبہارِشریعت ج ۳ص ۴۳۲)٭ اس دوران بلکہ جب بھی بیٹھیں پردے کی جگہوں کی ہَیئَت (ہَے۔اَتْ)و کیفیت نظر نہیں آنی چاہئے، لہٰذا’’ پردے میں پردہ‘‘کیلئے گھٹنوں سے قدموں تک چادر ڈال لی جائے اگر کُرتا سنّت کے مُطابِق ہو تو اُس کے دامن سے بھی ’’پردے میں پردہ‘‘ کیا جا سکتا ہے ٭ حُضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نماز فجر پڑھ لیتے چار زانو(یعنی چوکڑی مار کر) بیٹھے رہتے ،یہاں تک کہ سورج اچّھی طرح طُلُوع ہوجاتا (ِ ابوداوٗد ج۴ص۳۴۵حدیث۴۸۵۰) ٭جامِعِ کرامات ِ اولیا ءجلدا وّل کے صَفْحَہ 67 پرہے: امام یوسُف نَبہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی دوزانو (یعنی جس طرح نماز میں اَلتَّحِیَّات میں بیٹھتے ہیں اس طرح)بیٹھنے کی عادتِ کریمہ تھی ٭نماز کے باہَر(یعنی علاوہ) بھی دو زانو بیٹھنا افضل ہے(مراۃ ج ۸ ص ۹۰)٭ سرورِ کائنات ،