سعادت ملی۔ لبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحمت کے پھول جھڑنے لگے ،اور میٹھے بول کے الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: جو اِس ماہ روزانہ پابندی سے مَدَنی اِنْعامات سے مُتَعَلِّق فکرِ مدینہ کرے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی مغفِرت فرماد ے گا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت، شَہَنشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رَحمت،شَمعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَۂ بز م جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنت نشان ہے: جس نے میری سنت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)
سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’یارب ! زیر سبزگنبد بِٹھا ‘‘ کے اٹھارہ حُروف کی نسبت سے بیٹھنے کے18 مَدَنی پھول
٭ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:جو لوگ دیر تک کسی جگہ بیٹھے اور بغیر ذِکرُاللّٰہ اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود پڑھے وہاں سے متفرّق ہوگئے۔ انھوں نے