Brailvi Books

بھیانک اُونٹ
21 - 33
کے’’ مَدَنی ماحول ‘‘سے ناآشنائی کے باعث میں نے انکار کر دیا مگر ہمارے مَحَلّے کی مسجِد کے امام صاحِب نے مجھ پر انفِرادی کوشِش فرمائی اور میری خوب ہمت بندھائی یہاں تک کہ انہوں نے مجھے مَدَنی قافلے میں سفرکے لئے آمادہ کر لیا۔میں سفر کی نیّت سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع  میں حاضِر ہو گیا،اجتِماع کے بعد صبح مَدَنی قافلے نے سفر کرنا تھا، میں دنیا کیمَحَبَّت کا مارا اتنی دیر مسجد میں رہنے سے اُکتا سا گیا تھااور ’’مَدَنی قافلے ‘‘ میں مزید 3 دن مسجِد میں رہنے کے تصوُّرسے گھبر ا رہاتھا، میں نے یہاں سے فِرار ہو جانے کی نیّت بھی کرلی تھی کہ اتنے میں میرے امیرِقافلہ ڈھونڈتے ہوئے مجھ تک آپہنچے ، شیطان نے مجھے اُکسایا کہ ’’ میاں اب تو پھنسے! یہ مولوی تمہیں نہیں چھوڑے گا ، ‘‘ میں نے بھی دل میں کہا:دیکھتا ہوں مجھے یہ کیسے قافِلے میں لے جاتا ہے! لہٰذا شیطان کے بہکاوے میں آ کر میں نے اپنے مُحسن امیرِ قافلہ کوغصّے میں جھاڑ دیا کہ ’’ میاں جائو! میں آپ کو نہیں جانتا مجھے کسی مَدَنی قافلے میں نہیں جانا، بس مجھے تنگ نہ کرو گھر جانے دو۔‘‘ یقین مانئے ! میری حیرت کی اُس وَقْت انتِہا نہ رہی جب اپنی جلی کٹی سنانے کے بعد امیرِقافلہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیلتی دیکھی! انہوں نے مجھ پرغصّے کے ذَرِیعے جوابی کاروائی کرنے کے بجائے مسکرا مسکرا کرنہایت شفقت اور نرمی سے مَدَنی قافِلے