| بہشت کی کنجیاں |
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ افضل صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے جگر کو آسودہ کرو۔ حدیث:۴
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غُفِرَ لِاِمْرَأَۃٍ مُوْمِسَۃٍ مَرَّتْ بِکَلْبٍ عَلٰی رَأْسِ رَکِیٍّ یَلْھَثُ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطْشُ فَنَزَعَتْ خُفَّھَا فَاَوْثَقَتْہٗ بِخِمَارِھَا فَنَزَعَتْ لَہٗ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَھَا بِذٰلِکَ قِیْلَ اِنَّ لَنَا فِی الْبَھَائِمِ اَجْرًا قَالَ فِیْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ اَجْرٌ ۔(1)متفق علیہ
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک زناکارعورت ایک کتے کے پاس گزری جو ایک کنویں کے منہ پر زبان نکالے ہوئے تھااور قریب تھا کہ پیاس اُس کو مار ڈالے تو اس عورت نے اپنا چرمی موزہ اتارا اور اس کو اپنی اوڑھنی میں باند ھ کر اس سے پانی نکال کر کتے کو پِلادیا بس اسی سبب سے اس کی مغفرت ہوگئی۔کسی نے عرض کیا کہ کیاچوپایوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں ہمارے لئے اجر ہے؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر گیلے جگر والے کے ساتھ بھلائی کرنے میں اجر ہے۔
حدیث:۵عَنْ جَابِرٍ مَنْ حَفَرَ مَاءً لَمْ یَشْرَبْ مِنْہُ کَبِدٌ حَرّٰی مِنْ اِنْسٍ وَّجِنٍّ وَلَا سَبُعٍ وَلَا طَائِرٍ اِلَّا اٰجَرَہُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (2)
(کنزالعمال،ج۲۰،ص۲۶۲)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب فضل الصدقۃ،الحدیث:۱۹۰۲،ج۱، ص۳۶۱ 2۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب المواعظ...الخ،الباب الاول،الحدیث:۴۳۱۸۲،ج۸، الجزئ۱۵،ص۳۳۹