عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی فِیْ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً بُنِیَ لَہٗ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ اَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۰۳)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیا جائے گا،چار رکعت نماز ظہر سے پہلے اوردو رکعت ظہر کے بعد اور دو رکعت مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد اوردو رکعت نمازِ فجر سے پہلے۔( کل بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ)
تشریحات و فوائد
دن رات کی یہ بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں یعنی ان کو پڑھنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ قصداً بلا عذر ان کو چھوڑنا گناہ ہے اوران بارہ رکعتوں کی مداومت پر رسول خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے تو یہ جنت کے اعمال میں سے ایک عمل اور جنت کی کنجیوں میں سے ایک کنجی ہے۔
بعض لوگ جمعہ کی نماز کے بعد جلدی جلدی مسجد سے بھاگ نکلتے ہیں اورــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،ابواب الصلوۃ،باب ماجاء فیمن صلی...الخ،الحدیث:۴۱۵،ج۱، ص۴۲۴