Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
174 - 243
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ عزوجل سے حیاکروجیساکہ حیاکرنے کاحق ہے توصحابہ نے عرض کیاکہ بے شک ہم لوگ اللہ عزوجل سے حیا کرتے ہیں اے اللہ عزوجل کے نبی !صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ چیز نہیں ہے لیکن جو شخص اللہ سے ایسی حیا کرے جیسا کہ حق ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سر کی اور ان خیالات کی نگہبانی کرے جن کو سرنے یاد رکھا ہے اور چاہیے کہ پیٹ اور پیٹ نے جو غذا جمع کی ہے اس غذاکی نگہبانی رکھے اور موت اورگلنے سڑنے کو یاد کرے اور جو آخرت کاارادہ کرے وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ د ے تو جس نے یہ سب کام کرلیایقینا اس نے اللہ عزوجل سے ایسی حیا کی جیسا کہ حیا کا حق ہے۔اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

حدیث:۳
    عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَنْکَبَیَّ فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْعَا بِرُ سَبِیْلٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ اِذَا اَمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَاِذَا اَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِکَ لِمَرَضِکَ وَمِنْ حَیٰوتِکَ لِمَوْتِکَ۔رواہ البخاری(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۳۹)

    حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے  میرے دونوں کندھوں کو پکڑا پھر فرمایا تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم پردیسی ہوبلکہ گویا تم راستہ چلنے والے ہو۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرمایاکرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرواور تم جب صبح کرو تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجنائز،باب تمنی الموت وذکرہ،الحدیث:۱۶۰۴، ج۱،ص۳۰۵
Flag Counter