| بہشت کی کنجیاں |
غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللہِ وَعَیْنٌ بَاتَتْ سَاھِرَۃً یُّبَاھِی اللہُ تَعَالٰی بِہِ الْمَلَائِکَۃَ یَقُوْلُ اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ رُوْحُہٗ عِنْدِیْ وَجَسَدُہٗ فِیْ طَاعَتِیْ وَتَجَافٰی بَدَنُہٗ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنِیْ خَوْفًا وَّطَمْعًا فِیْ رَحْمَتِیْ اِشْھَدُوْا أَ نِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَہٗ (1)
(کنز العمال،ج۲۰،ص۳۰۸)
حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت میں چار آنکھوں کے سوا تمام آنکھیں روئیں گی۔ چاروں آنکھیں یہ ہیں:(۱)وہ آنکھ جو دنیا میں اللہ کے خوف سے رو چکی ہو۔(۲)وہ آنکھ جو جہاد میں زخمی کردی گئی ہو۔(۳)وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نیچی رہی۔(۴)وہ آنکھ جو خدا کی عبادت میں راتوں کوجاگتی رہی۔اللہ تعالیٰ ان بندوں کے ذریعے فرشتوں سے اظہارفخرفرمائے گا اور کہے گا کہ اے فرشتو! میرے بندے کو دیکھ لو کہ اس کی روح میرے پاس ہے اور اس کا بدن میری فرمانبرداری میں ہے اس کابدن خوابگاہوں سے الگ رہتا ہے مجھ سے ڈرتے ہوئے اور میری رحمت کی امید میں میری عبادت کرتا ہے تم لوگ گواہ رہو کہ میں نے اس کو بخش دیا۔تشریحات و فوائد
مذکورہ بالادونوں حدیثوں میں خوفِ خداوندی کوجنت میں لے جانے والاعمل بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری بہت سی حدیثوں اور قرآن مجید کی آیتوں کا بھی یہی مضمون ہے کہ خدا عزوجل سے ڈرنے والا جنتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ظاہر ہوگا کہ ''خدا عزوجل سے ڈرنا''یہ تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور''خدا عزوجل سے نہ ڈرنا''یہ تمام گناہوں کاسرچشمہ ہے اس لیے یقینا خدا عزوجل سے ڈرنے والا جنتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب المواعظ...الخ،الباب الاول،الحدیث:۴۳۴۶۱،ج۸، الجزء۱۵،ص۳۶۸