Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
16 - 243
اعظم ہند مدظلہ الاقدس نے بھی دارالعلوم کے قیام اورترقی میں بھر پور حصہ لیا۔

     مولانانے اس دارالعلوم کی ترقی اوربقا میں بھر پور اورجان توڑکر کوشش کی اور اس کو عروج تک پہنچا کر دم لیا۔ 

    بعض ناگفتہ بہ حالات اورارکان میں سے بعض کے درپے آزار ہونے کی و جہ سے استعفا دے کر ۱۷شعبان ۱۳۷۸؁ھ کو وہاں سے وطن آگئے ۔ اس کے بعد حج بیت اللہ کو روانہ ہوئے ۔ واپسی پر دارالعلوم صمدیہ بھیونڈی (مہاراشٹر)کی طلبی پر مارچ   ۱۹۶۰؁ کو طلبہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدرسہ مذکور میں تشریف لے گئے اورچار برس تک جم کر وہاں تدریسی خدمات کو انجام دیا اور مدرسہ مذکور کی تعمیر میں بھی بھرپورکوشش فرمائی ، جس کے طفیل ایک شاندار عمارت آج بھی موجود وشاہد ہے ۔ 

    مگر جب وہاں کے بھی بعض حضرات سے تعلقات معمول پر نہ رہے تو خاطر برداشتہ ہوکر  ۱۹۶۴؁ میں مستعفی ہوگئے۔ اس کے بعد فوراً دارالعلوم مسکینیہ دھوراجی گجرات سے طلبی آگئی اورمولانا حکیم علی محمد صاحب اشرفی کے اوردوسرے لوگوں کے اصرار پر وہاں مع جمعیۃ طلبہ تشریف لے گئے مگر وہاں بھی زیادہ دنوں قیام نہ کرسکے اور بالآخردارالعلوم منظر حق ٹانڈہ فیض آباد (یوپی)میں بعہدہ صدرالمدرسین وشیخ الحدیث تشریف لے گئے جہاں تقریباًدس سال سے علوم و معارف کے گوہر لٹارہے ہیں ۔ خدا نے تفہیم کی خوب خوب صلاحیت بخشی ہے ۔ تمام متداول کتابوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں اورپوری مہارت سے درس دیتے ہیں اورطلبہ خوب مانوس ہوتے ہیں۔ تدریس کی اس طویل مدت میں طلبہ کی ایک تعدادتیار ہوگئی اور آج ملک وبیرون ملک آپ کے تلامذہ تدریس و تقریراور مناظرہ و تصنیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔