Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
14 - 243
کامیاب ہوکر انعامات بھی حاصل کئے ۔

    علی گڑھ کے دورانِ قیام حضر ت مولانا سید سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ)کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے ۔ 

    ۱۳۵۶؁ھ میں مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں سے سند فراغ حاصل کیا۔ حضرت مولاناسید شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سر پردستار فضیلت باندھی۔

بیعت

    ۱۷صفرالمظفر۱۳۵۳؁ھ میں حضرت قاضی ابن عباس صاحب عباسی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پہلے عرس میں حضرت الحاج حافظ شاہ ابرارحسن خان صاحب نقشبندی شاہ جہانپوری (جو قاضی صاحب موصوف کے پیر بھائی تھے )سے مرید ہوئے ۔

    ۲ذیقعدہ  ۱۳۷۰؁ھ کو حضر ت شاہ ابرار حسن صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیا تو اس کے بعدآپ کے خلیفہ برحق الحاج قاضی محبوب احمد صاحب عباسی نقشبندی سے بھی اکتساب فیض کیا۔

    چونکہ شروع ہی سے موصوف کا رجحان سلسلہ نقشبندیہ کی طرف زیادہ تھا اسی لیے اس سلسلے میں مرید ہوئے مگر دیگر سلاسل کے بزرگوں سے بھی اکتساب فیض وبرکات کا سلسلہ جاری رکھا۔ 

    ۲۵صفرالمظفر ۱۳۵۸؁ھ میں عرس رضوی کے مبارک ومسعود موقع پر حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان صاحب (م۱۳۶۳؁ھ) نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی