| بہشت کی کنجیاں |
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ربیع بنت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جوحارثہ بن سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کیا آپ حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ بیان فرمائیں گے؟ حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ بدر کے دن قتل ہوگئے تھے، ان کو ایک نامعلوم تیر لگ گیا تھا۔ اگر وہ جنت میں ہوں جب تو میں صبر کروں گی اور اگر اس کے سوا کوئی بات ہو تو میں ان پر رونے میں پوری کوشش کروں گی۔ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اے حارثہ کی ماں!بے شک جنت کے اندربہت سی جنتیں ہیں اوریقین رکھ کہ تیرابیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ حدیث:۳
عَنْ سَالِمٍ اَبِی النَّضْرِ قَالَ کَتَبَ اِلَیْہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ اَوْفٰی اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ (1)
(بخاری،ج۱،ص۳۹۵)
حضرت سالم ابونضر سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے پاس عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ تم لوگ یقین کے ساتھ جان لو کہ بے شک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
حدیث:۴عَنْ عُمَرَ قَالَ اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھادوالسیر،باب الجنۃ...الخ،الحدیث:۲۸۱۸،ج۲، ص۲۵۹