قتل ہونے کے بعدزندہ ہونے کی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمناظاہرنہیں فرمائی۔
(۳)حدیث نمبر۵ میں مجاہد کے عمل جاری رہنے کا یہ مطلب ہے کہ مجاہد اپنی زندگی میں نمازو روزہ اور دوسری قسم قسم کی عبادتیں جو کیا کرتا تھا اگر حالت جہاد میں وہ اگرچہ اپنے بستر پر مرگیا۔مگرچونکہ جہاد کے دوران اس کی موت ہوتی ہے اس لیے اس کو یہ کرامت نصیب ہوگی کہ وہ اپنی زندگی میں جتنی عبادتیں کیا کرتا تھا اب وہ مرگیا اور کوئی عبادت بھی نہیں کرتا مگر اس کے نامہ اعمال میں ان سب عبادتوں کا ثواب روزانہ لکھا جائے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور برابر جنت میں اس کی روزی اس کو ملتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ اس کو تمام فتنہ میں ڈالنے والوں یعنی شیطان،دجال، وغیرہ سے بے خوف کردے گا اور قبر میں منکر و نکیر کے سوال و جواب کی آزمائش اور قیامت کے زلزلہ کی ہولناکیوں وغیرہ کی تمام آزمائشوں اور امتحانوں سے وہ بے خوف ہوجائے گا۔