Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
122 - 243
قتل ہونے کے بعدزندہ ہونے کی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمناظاہرنہیں فرمائی۔

(۳)حدیث نمبر۵ میں مجاہد کے عمل جاری رہنے کا یہ مطلب ہے کہ مجاہد اپنی زندگی میں نمازو روزہ اور دوسری قسم قسم کی عبادتیں جو کیا کرتا تھا اگر حالت جہاد میں وہ اگرچہ اپنے بستر پر مرگیا۔مگرچونکہ جہاد کے دوران اس کی موت ہوتی ہے اس لیے اس کو یہ کرامت نصیب ہوگی کہ وہ اپنی زندگی میں جتنی عبادتیں کیا کرتا تھا اب وہ مرگیا اور کوئی عبادت بھی نہیں کرتا مگر اس کے نامہ اعمال میں ان سب عبادتوں کا ثواب روزانہ لکھا جائے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور برابر جنت میں اس کی روزی اس کو ملتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ اس کو تمام فتنہ میں ڈالنے والوں یعنی شیطان،دجال، وغیرہ سے بے خوف کردے گا اور قبر میں منکر و نکیر کے سوال و جواب کی آزمائش اور قیامت کے زلزلہ کی ہولناکیوں وغیرہ کی تمام آزمائشوں اور امتحانوں سے وہ بے خوف ہوجائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
بہرحال ان سب حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ جہاد جنت میں لے جانے والا ایک بہت ہی اعلیٰ درجے کا عمل ہے اوردر حقیقت جہاد بہشت کی کنجیوں میں سے ایک بڑی کنجی اور جنت کی سڑکوں میں سے بہت بڑی سڑک بلکہ شاہراہ ہے۔
(۲۲)     شہادت
    خدا عزوجل کی راہ میں شہید ہوجانا یہ بھی جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ایک بہت اعلیٰ اور اطمینان بخش عمل صالح ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کے لیے حیات جاودانی کی بشارت اور جنۃ الفردوس کی خوشخبری دی ہے۔ شہادت کے فضائل میں سینکڑوں حدیثوں میں سے یہ چند حدیثیں درج ذیل ہیں ان کو بغور پڑھئے اور اپنے اندر جوش جہاد اور شہادت کا جذبہ پیدا کرکے حیاتِ جاودانی،
Flag Counter