| بہشت کی کنجیاں |
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس بیت اللہ (کعبہ)کے پاس آیا اور کوئی ذکر جماع اور گناہ نہیں کیا تو وہ حج سے ایسا ہو کر لوٹے گا جیسا کہ اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔(یعنی گناہوں سے پاک و صاف ہو کر) حدیث:۱۰
عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ مَلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ اِلٰی بَیْتِ اللہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلَا عَلَیْہِ اَنْ یَّمُوْتَ یَھُوْدِیًّا اَوْ نَصْرَانِیًّا وَذٰلِکَ اَنَّ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ: وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۔(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۲۲،کنزالعمال،ج۵،ص۱۱)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص توشہ اور ایسی سواری کا مالک ہوگیا جو اسے بیت اللہ تک پہنچادے پھر بھی اس نے حج نہیں کیا توکچھ فرق نہیں ہے کہ یہودی ہوتے ہوئے مرے یا نصرانی ہوتے ہوئے۔(یعنی اس کی موت اور یہودی و نصرانی کی موت میں کچھ فرق نہیں کہ وہ لوگ بھی حج نہیں کرتے اور اس نے بھی حج نہیں کیا)اور یہ اِس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ہی کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج ہے جو بیت اللہ تک راستہ کی طاقت رکھے۔تشریحات و فوائد
(۱) حدیث نمبر ۲ اور حدیث نمبر ۴ میں ''حج مبرور''کی فضیلت کا ذکر آیا ہے حج مبرور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:ا وراللہ کے لئے لوگوں پراس گھر کاحج کرناہے جواس تک چل سکے۔(پ۴، ال عمرٰن:۹۷) ومشکاۃالمصابیح،کتاب المناسک،الفصل الثانی،الحدیث:۲۵۲۱،ج۱، ص۴۷۰