مسئلہ۱۳: اگر کفر قطعی (1)ہو تو عورت نکاح سے نکل جائے گی پھر اسلام لانے کے بعد اگر عورت راضی ہو تو دوبارہ اس سے نکاح ہو سکتاہے ورنہ جہاں پسند کرے نکاح کر سکتی ہے اس کا کوئی حق نہیں کہ عورت کو دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روک دے اور اگر اسلام لانے کے بعد عورت کو بدستور رکھ لیا دوبارہ نکاح نہ کیا تو قربت(2) زنا ہوگی اور بچے ولدالزنا اور اگر کفر قطعی نہ ہو یعنی بعض علما کافر بتاتے ہوں اور بعض نہیں یعنی فقہاکے نزدیک کافر ہو اور متکلمین(3)کے نزدیک نہیں تو اس صورت میں بھی تجدید ِاسلام و تجدید ِنکاح کا حکم دیا جائیگا۔(4) (درمختار)
مسئلہ۱۴: عورت کو خبر ملی کہ اس کا شوہر مرتد ہو گیا تو عدت گزار کر نکاح کر سکتی ہے خبر دینے والے دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دوعورتیں بلکہ ایک عادل کی خبر کافی ہے۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۱۵: عورت مرتد ہوگئی پھر اسلام لائی تو شوہرِ اول سے نکاح کرنے پر مجبور کی جائے گی یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ دوسرے سے نکاح کرے اسی پر فتوی ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ۱۶: مرتد کا نکاح بالاتفاق باطل ہے وہ کسی عورت سے نکاح نہیں کر سکتا نہ مسلمہ سے نہ کافرہ سے نہ مرتدہ سے نہ حرہ(7) سے نہ کنیز (8)سے۔( 9) (عالمگیری)
مسئلہ۱۷: مرتد کا ذبیحہ مردار ہے اگرچہ بِسْمِ اللہ کرکے ذبح کرے۔ یوہیں کتے یا باز یا تیر سے جو شکار کیا ہے وہ بھی مردار ہے، اگرچہ چھوڑنے کے وقت بِسْمِ اللہ کہہ لی ہو۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ۱۸: مرتد کسی معاملہ میں گواہی نہیں دے سکتا اور کسی کا وارث نہیں ہو سکتا اور زمانہ ارتدار میں جو کچھ کمایا ہے اس میں مرتد کا کوئی وارث نہیں۔ (11)(درمختار، ردالمحتار)