یہاں تک کہ توبہ کرے اور مسلمان ہو جائے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مرتد اگر ارتداد(2) سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے مگر بعض مرتدین مثلاً کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا کہ اُس کی توبہ مقبول نہیں۔ توبہ قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے کے بعد بادشاہ ِاسلام اسے قتل نہ کریگا۔ (3)
مسئلہ ۱۱: مرتد اگر اپنے ارتداد سے انکار کرے تو یہ انکار بمنزلہ توبہ ہے اگرچہ گو اہان عادل سے اسکا ارتداد ثابت ہو یعنی اس صورت میں یہ قرار دیاجائے گا کہ ارتداد تو کیا مگر اب توبہ کرلی لہٰذا قتل نہ کیا جائیگا اور ارتداد کے باقی احکام جاری ہونگے مثلاًاس کی عورت نکاح سے نکل جائے گی، جو کچھ اعمال کیے تھے سب اکارت(4) ہو جائیں گے، حج کی استطاعت رکھتا ہے تو اب پھر حج فرض ہے کہ پہلا حج جو کر چکا تھا بیکار ہوگیا۔ (5)(درمختار، بحرالرائق) اگر اس قول سے انکار نہیں کرتا مگر لایعنی(6) تقریروں سے اس امر کو صحیح بتاتا ہے جیسا زمانہ حال کے مرتدین کا شیوہ ہے تو یہ نہ انکار ہے نہ تو بہ مثلاً قادیانی کہ نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے اور خاتم النبیین کے غلط معنے بیان کر کے اپنی نبوّت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا حضرتِ سیدنا مسیح عیسیٰ علیہ افضل الصلوۃ والثناکی شانِ پاک میں سخت سخت حملے کرتا ہے پھر حیلے گڑھتا ہے یا بعض عمائد وہابیہ(7) کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ رفیع میں کلماتِ دشنام(8) استعمال کرتے اور تاویل غیرمقبول(9) کرکے اپنے اوپر سے کفر اٹھانا چاہتے ہیں ایسی باتوں سے کفر نہیں ہٹ سکتا کفر اٹھانے کا جو نہایت آسان طریقہ ہے کاش! اسے برتتے تو ان زحمتوں میں نہ پڑتے اور عذاب آخرت سے بھی انشاء اﷲرہائی کی صورت نکلتی وہ صرف توبہ ہے کہ کفر و شرک سب کو مٹا دیتی ہے، مگر اس میں وہ اپنی ذلت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خدا کو محبوب، اُس کے محبوبوں کو پسند، تمام عقلا کے نزدیک اس میں عزت۔
مسئلہ ۱۲: زمانہ اسلام میں کچھ عبادات قضا ہوگئیں اور ادا کرنے سے پہلے مرتد ہوگیا پھر مسلمان ہوا تو ان عبادات کی قضاکرے اور جو ادا کر چکا تھا اگرچہ ارتداد سے باطل ہو گئی مگر اس کی قضا نہیں البتہ اگر صاحبِ استطاعت ہو تو حج دوبارہ فرض ہوگا۔ (10)(درمختار)