اور اگر وہ کچھ شبہہ بیان کرے تو اس کا جواب دے اور اگر مہلت مانگے تو تین دن قید میں رکھے اور ہر روز اسلام کی تلقین کرے۔ (1)یوہیں اگر اس نے مہلت نہ مانگی مگر امید ہے کہ اسلام قبول کرلے گا جب بھی تین دن قید میں رکھا جائے پھر اگر مسلمان ہوجائے فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے بغیر اسلام پیش کیے اسے قتل کر ڈالنا مکر وہ ہے۔ (2)(درمختار) مرتد کو قید کرنا اور اسلام نہ قبول کرنے پر قتل کر ڈالنا بادشاہ اسلام کا کام ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ایساشخص اگر زندہ رہا اور اس سے تعرض نہ کیا گیا(3) تو ملک میں طرح طرح کے فساد پیدا ہونگے اور فتنہ کا سلسلہ روز بروز ترقی پذیر ہوگا جس کی وجہ سے امن عامہ میں خلل پڑیگا لہٰذا ایسے شخص کو ختم کر دینا ہی مقتضائے حکمت(4) تھا۔ اب چونکہ حکومت اسلام ہندوستان میں باقی نہیں کوئی روک تھام کرنے والا باقی نہ رہا ہر شخص جو چاہتا ہے بکتا ہے اور آئے دن مسلمانوں میں فساد پیدا ہوتا ہے نئے نئے مذہب پیدا ہوتے رہتے ہیں ایک خاندان بلکہ بعض جگہ ایک گھر میں کئی مذہب ہیں اور بات بات پر جھگڑے لڑائی ہیں ان تمام خرابیوں کا باعث یہی نیا مذہب ہے ایسی صورت میں سب سے بہتر ترکیب وہ ہے جو ایسے وقت کے لیے قرآن وحدیث میں ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے تعلقات ان سے قطع (5)کر دیں گو یا سمجھیں کہ وہ اب رہا ہی نہیں، واﷲ الموفق۔
مسئلہ ۸: کسی دین باطل کو اختیار کیا مثلاً یہودی یا نصرانی ہو گیا ایسا شخص مسلمان اس وقت ہو گا کہ اس دین باطل سے بیزاری و نفرت ظاہر کرے اور دین اسلام قبول کرے۔ اور اگر ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار کیا ہو تو جب تک اُس کا اقرار نہ کرے جس سے انکار کیا ہے محض کلمہ شہادت پڑھنے پر اس کے اسلام کا حکم نہ دیا جائے گا کہ کلمہ شہادت کا اس نے بظاہر انکار نہ کیا تھا مثلاً نماز یا روزہ کی فرضیت سے انکار کرے یا شراب اور سوئر کی حرمت نہ مانے تو اس کے اسلام کے لیےیہ شرط ہے کہ جب تک خاص اس امر کا اقرار نہ کرے اس کا اسلام قبول نہیں یا اﷲتعالیٰ اور رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی کرنے سے کافر ہوا تو جب تک اس سے توبہ نہ کرے مسلمان نہیں ہو سکتا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: عورت یا نابالغ سمجھ وال بچہ مرتد ہوجائے تو قتل نہ کرینگے بلکہ قید کرینگے