اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمھیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے مگر شریعت نے کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے اگر کافر کو کافر نہ جانا جائے تو کیا اس کے ساتھ وہی معاملات کروگے جو مسلم کے ساتھ ہوتے ہیں حالانکہ بہت سے امور ایسے ہیں جن میں کفار کے احکام مسلمانوں سے بالکل جدا ہیں مثلاً ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا، ان کے لیے استغفار نہ کرنا، ان کو مسلمانوں کی طرح دفن نہ کرنا، ان کو اپنی لڑکیاں نہ دینا، ان پر جہاد کرنا، ان سے جزیہ لینا اس سے انکار کریں تو قتل کرنا وغیرہ وغیرہ۔ بعض جاہل یہ کہتے ہیں کہ ''ہم کسی کو کافر نہیں کہتے، عالم لوگ جانیں وہ کافر کہیں'' مگر کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ عوام کے تو وہی عقائد ہونگے جو قرآن و حدیث وغیرہما سے علما نے انھیں بتائے یا عوام کے لیے کوئی شریعت جدا گا نہ ہے جب ایسا نہیں تو پھر عالمِ دین کے بتائے پر کیوں نہیں چلتے نیزیہ کہ ضروریات کا انکار کوئی ایسا امر نہیں جو علما ہی جانیں عوام جو علما کی صحبت سے مشرف ہوتے رہتے ہیں وہ بھی ان سے بے خبر نہیں ہوتے پھر ایسے معاملہ میں پہلو تہی (1)اور اعراض (2)کے کیا معنی۔
مسئلہ ۴: کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی(3) تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: کفری بات کا دل میں خیال پیدا ہوا اور زبان سے بولنا برا جانتا ہے تو یہ کفر نہیں بلکہ خاص ایمان کی علامت ہے کہ دل میں ایمان نہ ہوتا تو اسے برا کیوں جانتا۔ (5)
مسئلہ ۶: مرتد ہونے کی چند شرطیں ہیں(۱)عقل۔ ناسمجھ بچہ اور پاگل سے ایسی بات نکلی تو حکم کفر نہیں۔(۲)ہوش۔ اگر نشہ میں بکا تو کافر نہ ہوا۔(۳) اختیار مجبوری اور اکراہ(6)کی صورت میں حکم کفر نہیں۔ مجبوری کے یہ معنے ہیں کہ جان جانے یاعضو کٹنے یا ضرب شدید(7) کا صحیح اندیشہ ہو اس صورت میں صرف زبان سے اس کلمہ کے کہنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل میں وہی اطمینان ایمانی ہو