| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
آدمی کو کبھی اپنے اوپر یا اپنی طاعت واعمال پر بھروسا نہ چاہیے ہر وقت خدا پر اعتماد کرے اور اسی سے بقائے ایمان کی دعا چاہے کہ اسی کے ہاتھ میں قلب ہے اور قلب کو قلب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ لَوٹ پَوٹ ہوتا رہتا ہے(1) ایمان پر ثابت رہنا اسی کی توفیق سے ہے جس کے دستِ قدرت میں قلب ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شرک سے بچو کہ وہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے(2) اور اس سے بچنے کی حدیث میں ایک دعا ارشاد فرمائی اسے ہر روز تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شرک سے محفوظ رہوگے، وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیوبِ.(3)
مرتد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امرکا انکار کرے جو ضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔ یوہیں بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہو جاتا ہے مثلاً بت کو سجدہ کرنا۔ مصحف شریف کو نجاست کی جگہ پھینک دینا۔ (4)
مسئلہ ۲: جو بطور تمسخر اور ٹھٹے (5)کے کفر کریگا وہ بھی مرتد ہے اگرچہ کہتا ہے کہ ایسا اعتقاد نہیں رکھتا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳: کسی کلام میں چند معنے بنتے ہیں بعض کفر کی طرف جاتے ہیں بعض اسلام کی طرف تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی (7)۔ہاں اگر معلوم ہو کہ قائل نے معنی کفر کا ارادہ کیا مثلاً وہ خود کہتا ہے کہ میری مراد یہی ہے تو کلام کا محتمل ہونا نفع نہ دیگا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ کلمہ کے کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضرور نہیں۔ (8)(ردالمحتار وغیرہ) آج کل بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ کسی شخص میں ایک بات بھی اسلام کی ہو تو اسے کافر نہ کہیں گے یہ بالکل غلط ہے کیا یہود ونصاریٰ میں اسلام کی کوئی بات نہیں پائی جاتی حالانکہ قرآن عظیم میں انھیں کافر فرمایا گیا بلکہ بات یہ ہے کہ علما نے فرمایا یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان نے ایسی بات کہی جس کے بعض معنی اسلام کے مطابق ہیں تو کافر نہ کہیں گے اس کو ان لوگوں نے یہ بنا لیا۔ ایک یہ وبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ''ہم تو کافر کو بھی کافر نہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو گا '' یہ بھی غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔یعنی بدلتارہتاہے۔
2۔۔۔۔۔۔''المسند''،للامام احمدبن حنبل،مسندالکوفیین،حدیث أبی موسی الأشعری،الحدیث۱۹۶۲۵،ج۷،ص۱۴۶. 3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب: فی حکم من شتم ...الخ،ج۶،ص۳۵۴.
ترجمہ : اے اللہ !میں تیری پناہ مانگتاہوں کہ جان بوجھ کر تیرے ساتھ کسی کو شریک بناؤں اور تجھ سے بخشش مانگتاہوں (اس شرک سے) جسے میں نہیں جانتا بے شک تو دانائے غیوب ہے۔
4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج۶،ص۳۴۴. 5۔۔۔۔۔۔ہنسی مذاق کے طورپر۔ 6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد، باب المرتد،ج۶،ص۳۴۳. 7۔۔۔۔۔۔یعنی اس کوکافرقرارنہیں دیاجائے گا۔ 8۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب: فی حکم من شتم دین مسلم، ج۶،ص۳۵۴.وغیرہ.