حدیث ۱: امام بخاری نے ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بندہ کبھی اﷲتعالیٰ کی خوشنودی کی بات کہتا ہے اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا (یعنی اپنے نزدیک ایک معمولی بات کہتا ہے) اﷲتعالیٰ اس کی وجہ سے اسکے بہت درجے بلند کرتا ہے اور کبھی اﷲ (عزوجل) کی ناراضی کی بات کرتا ہے اور اس کا خیال بھی نہیں کرتا اس کی وجہ سے جہنم میں گرتا ہے۔'' اور ایک روایت میں ہے، کہ ''مشرق ومغرب کے درمیان میں جو فاصلہ ہے، اس سے بھی فاصلہ پر جہنم میں گرتا ہے۔'' (1)
حدیث ۲و۳: صحیح بخاری ومسلم میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مسلمان اﷲ (عزوجل) کی وحدانیت اور میری رسالت کی شہادت دیتا ہے اس کا خون حلال نہیں، مگر تین وجہ سے وہ کسی کو قتل کرے اور ثیب زانی اور دین سے نکل جانے والا جو جماعت مسلمین کو چھوڑ دیتا ہے۔'' اور ترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے اسی کی مثل حضرت عثمان رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ (2)
حدیث ۴: صحیح بخاری شریف میں عکرمہ سے مروی، کہتے ہیں کہ حضرتِ علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی خدمت میں زندیق (3)پیش کیے گئے انھوں نے ان کو جلا دیا۔ جب یہ خبر عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما کو پہنچی تو یہ فرمایا کہ میں ہوتا تو نہیں جلاتا کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا، فرمایا کہ ''اﷲ (عزوجل) کے عذاب کے ساتھ تم عذاب مت دو۔'' اور میں انھیں قتل کرتا، اس لیے کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے: ''جو شخص اپنے دین کو بدل دے، اُسے قتل کر ڈالو۔'' (4)
مسئلہ ۱: کفر و شرک سے بدتر کوئی گناہ نہیں اور وہ بھی ارتداد کہ یہ کفر اصلی سے بھی باعتبار احکام سخت ترہے جیسا کہ اس کے احکام سے معلوم ہوگا۔ مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پناہ مانگتا رہے کہ شیطان ہر وقت ایمان کی گھات(5) میں ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح تیرتا ہے(6)۔