لباس فاخرہ (1)جو علما وغیرہ اہل شرف کے ساتھ مخصوص ہے نہ پہنے۔ مسلمان کھڑا ہو تو وہ اُس وقت نہ بیٹھے۔ اُن کی عورتیں بھی مسلمان عورتوں کی طرح کپڑے وغیرہ نہ پہنیں۔ ذمیوں کے مکانوں پر بھی کوئی علامت ایسی ہو جس سے پہچانے جائیں کہ کہیں سائل دروازوں پر کھڑا ہو کر مغفرت کی دعا نہ دے غرض اُس کی ہر بات مسلمانوں سے جدا ہو ۔(2)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
اب چونکہ ہندوستان میں اسلامی سلطنت نہیں لہٰذا مسلمانوں کو یہ اختیار نہ رہا کہ کفار کو کسی وضع وغیرہ کا پابند کریں البتہ مسلمانوں کے اختیار میں یہ ضرور ہے کہ خود اون کی وضع اختیار نہ کریں مگر بہت افسوس ہوتا ہے جبکہ کسی مسلمان کو کافروں کی صورت میں دیکھا جاتا ہے لباس و وضع قطع میں کفار سے امتیاز نہیں رکھتے بلکہ بعض مرتبہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ نام دریافت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مسلمان ہے۔ مسلمانوں کا ایک خاص امتیاز ڈاڑھی رکھنا تھا اس کو آج کل لوگوں نے بالکل فضول سمجھ رکھا ہے نصارےٰ کی تقلید(3)میں ڈاڑھی کا صفایا اور سر پر بالوں کا گپّھا(4) مونچھیں بڑی بڑی یا بیچ میں ذراسی جو دیکھنے سے مصنوعی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر رکھیں تو نصاریٰ کی سی کم کریں تو نصاریٰ کی طرح۔ اسلامی بات سب نا پسند، کپڑے جوتے ہوں تو نصرانیوں کے سے، کھانا کھائیں تو اون کی طرح اور اب کچھ دنوں سے جو نصاریٰ کی طرف سے منحرف ہوئے (5)توگھر لوٹ کر نہ آئے بلکہ مشرکوں ہندؤں کی تقلید اختیار کی ٹوپی ہندو کے نام کی، ہندو جو کہیں اوس پر دل وجان سے حاضر اگرچہ اسلام کے احکام پسِ پشت ہوں (6) اگر وہ کہے اور جب وہ کہے روزہ رکھنے کو طیار مگر رمضان میں پان کھا کر نکلنا نہ شرم نہ عار، وہ کہے تو دن بھر بازار بند خرید و فروخت حرام اور خدا فرماتا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو توخریدو فروخت چھوڑو(7) اس کی طرف اصلاً التفات نہیں(8) غرض مسلمانوں کی جو ابترحالت (9) ہے، اس کا کہاں تک رونا رویا جائے یہ حالت نہ ہوتی تو یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے اور جب ان کی قوت منفعلہ(10) اتنی قوی ہے اور قوت فاعلہ (11) زائل ہو چکی تو اب کیا امید ہو سکتی ہے کہ یہ مسلمان کبھی ترقی کا زینہ طے کرینگے غلام بن کر اب بھی ہیں اور جب بھی رہیں گے، والعیاذ باﷲتعالیٰ۔