نصف سال یا اکثر میں بیمار نہ رہتا ہو ایسا بھی نہ ہو کہ اُسے کوئی کام کرنا آتا نہ ہو نہ اتنا بیوقوف ہو کہ کچھ کام نہ کر سکے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲: سال کے اکثر حصہ میں مالدار ہے تو مالداروں کا جزیہ لیا جائے گا اور فقیر ہے تو فقیروں کا اور چھ مہینے میں مالدار رہا اور چھ مہینے میں فقیر تو متوسط۔ ابتدائے سال میں جب مقرر کیا جائیگا اُس وقت کی حالت دیکھ کر مقرر کریں گے اور اگر اُس وقت کوئی عذر ہو تو اس کا لحاظ کیا جائے گا پھر اگر وہ عذر اثنا ئے سال (2) میں جاتا رہا اور سال کا اکثر حصہ باقی ہے تو مقرر کر دیں گے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مرتد سے جزیہ نہ لیا جائے اسلام لائے فبہا (4) ورنہ قتل کر دیا جائے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴: بچہ اور عورت اور غلام و مکاتب و مدبر ، پاگل، بوہرے، لنجھے (6)، بیدست و پا(7)، اپاہج (8)، فالج کی بیماری والے، بوڑھے عاجز، اندھے، فقیر ناکارہ، پوجاری (9) جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور کام پر قادر نہ ہو ان سب سے جزیہ نہیں لیا جائے گا اگرچہ اپاہج وغیرہ مالدار ہوں۔(10) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵: جو کچھ کماتا ہے سب صرف ہوجاتا ہے بچتا نہیں تو اس سے جزیہ نہ لیں گے۔(11) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: شروع سال میں جزیہ مقرر کرنے سے پہلے بالغ ہوگیا تو اس پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا اور اگر اس وقت نابالغ تھا، مقرر ہوجانے کے بعد بالغ ہوا تو نہیں۔(12) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: اثنائے سال میں یا سالِ تمام کے بعد مسلمان ہوگیا تو جزیہ نہیں لیا جائے گا اگرچہ کئی برس کا اس کے ذمہ باقی ہو اور اگر دو۲برس کا پیشگی لے لیا ہو توسال آئندہ کا جو لیا ہے واپس کریں اور اگر جزیہ نہ لیا اور دوسرا سال شروع ہوگیا تو سال گذشتہ کا ساقط ہوگیا۔ یوہیں مرجانے، اندھے ہونے، اپاہج ہوجانے، فقیر ہوجانے،