Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
448 - 466
    حدیث ۳: ترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) ہم کافروں کے ملک میں جاتے ہیں، وہ نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ہمارے حقوق ادا کرتے ہیں اور ہم خود جبراً(1) لینا اچھا نہیں سمجھتے (اور اس کی وجہ سے ہم کو بہت ضرر ہوتا ہے۔) ارشاد فرمایاکہ ''اگر تمھارے حقوق خوشی سے نہ دیں، توجبراً وصول کرو۔'' (2)

    حدیث ۴: امام مالک اسلم سے راوی، کہ امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے یہ جزیہ مقرر کیا، سونے والوں پر چار دینار اور چاندی والوں پر چالیس درہم اور اس کے علاوہ مسلمانوں کی خوراک اور تین دن کی مہمانی اُن کے ذمہ تھی۔ (3)
مسائل فقہیّہ
    سلطنت اسلامیہ کی جانب سے ذمی کفار پر جو مقرر کیا جاتا ہے اسے جزیہ کہتے ہیں۔ جزیہ کی دو قسمیں ہیں ایک وہ کہ ان سے کسی مقدار معین پر صلح ہوئی کہ سالانہ وہ ہمیں اتنا دیں گے اس میں کمی بیشی کچھ نہیں ہو سکتی نہ شرع نے اس کی کوئی خاص مقدار مقرر کی بلکہ جتنے پر صلح ہو جائے وہ ہے۔ دوسری یہ کہ ُملک کو فتح کیا اور کافروں کے املاک(4) بدستور چھوڑ دیے گئے ان پر سلطنت (5)کی جانب سے حسب حال کچھ مقرر کیا جائیگا اس میں اُن کی خوشی یا نا خوشی کا اعتبار نہیں اس کی مقدار یہ ہے کہ مالداروں پر اڑتالیس۴۸درہم سالانہ ہر مہینے میں چار درہم۔ متوسط شخص پر چوبیس درہم سالانہ ہر مہینے میں دو درہم۔ فقیر کمانے والے پر بارہ درہم سالانہ ہر ماہ میں ایک درہم۔ اب اختیار ہے کہ شروع سال میں سال بھر کالے لیں یا ماہ بماہ وصول کریں دوسری صورت میں آسانی ہے۔ مالدار اور فقیر اور متوسط کس کو کہتے ہیں یہ وہاں کے عرف اور بادشاہ کی رائے پر ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو شخص نادار ہو یا دوسو درہم سے کم کا مالک ہو فقیر ہے اور دو سو سے دس ۱۰ہزار سے کم تک کا مالک ہو تو متوسط ہے اور دس ہزار یا زیادہ کا مالک ہو تو مالدار ہے۔ (6)(درمختا، ردالمحتار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۱: فقیر کمانے والے سے مراد وہ ہے کہ کمانے پر قادر ہو یعنی اعضا سالم ہوں (7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔زبردستی۔

2۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب السیر،باب ماجاء ما یحل من اموال اھل الذمۃ،الحدیث:۱۵۹۵،ج۳،ص۲۱۶. 

3۔۔۔۔۔۔''الموطأ''،لإمام مالک،کتاب الزکاۃ، باب جزیۃ أھل الکتاب والمجوس، الحدیث:۶۲۹،ج۱،ص۲۵۷.
4۔۔۔۔۔۔جائیداد ،مکانات وغیرہ۔

5۔۔۔۔۔۔یعنی اسلامی حکومت۔
6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد، فصل فی الجزیۃ،ج۶،ص۳۰۵،۳۰۶.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،ج۲،ص۲۴۴.

7۔۔۔۔۔۔یعنی درست ہو۔
Flag Counter