| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
بعضوں نے خواہ مخواہ اسے دارالحرب خیال کر رکھا ہے یہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ باہم رضا مندی سے کوئی قاضی مقرر کریں کہ کم ازکم اسلامی معاملات جن کے لیے مسلمان حاکم ہونا شرط ہے اُس سے فیصلہ کرائیں اور یہ مسلمانوں کی بدنصیبی ہے کہ باوجود اس کے کہ انگریز اُنھیں اُس سے نہیں روکتے پھر بھی اُنھیں احکام شرعیہ کے اجرا(1)کی بالکل پرواہ نہیں۔
عشر و خراج کا بیان
زمین عرب اور بصرہ اور وہ زمین جہاں کے لوگ خود بخود مسلمان ہو گئے اور جو شہر قہراً فتح کیا گیا اور وہاں کی زمین مجاہدین پر تقسیم کر دی گئی یہ سب عشری(2) ہیں اور بھی عشری ہونے کی بعض صورتیں ہیں، جن کو ہم کتاب الزکاۃ(3) میں بیان کر آئے اور جو شہر بطور صلح فتح ہو یا جو لڑکر فتح کیا گیا مگر مجاہدین پر تقسیم نہ ہوا بلکہ وہاں کے لوگ برقرار رکھے گئے یا دوسری جگہ کے کافروہاں بسا دیے گئے، یہ سب خراجی(4) ہیں۔ بنجر زمین کو مسلمان نے کھیت کیا، اگر اُس کے آس پاس کی زمین عشری ہے تو یہ بھی عشری اور خراجی ہے تو خراجی۔
مسئلہ: زمین وقف کر دی تو اگر پہلے عشری تھی تواب بھی عشری ہے اور خراجی تھی تو اب بھی خراجی اور اگر بیت المال سے خرید کر وقف کی تو اب خراج نہیں اور عشری تھی تو عُشرہے۔ (5)(ردالمحتار)
عشر وخراج کے مسائل بقدر ضرورت کتاب الزکاۃ میں بیان کر دیے گئے وہاں سے معلوم کر یں اُن سے زائد جزئیات(6) کی حاجت نہیں معلوم ہوتی لہٰذا اُنھیں پر اکتفا کریں۔
تنبیہ: اس زمانہ کے مسلمانوں نے عشروخراج کو عموماً چھوڑرکھا ہے بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے بہتیرے(7) وہ مسلمان ہیں جن کے کان بھی ان لفظوں سے آشنا نہیں، جانتے ہی نہیں کہ کھیت کی پیداوار میں بھی شرع (8)نے کچھ دوسروں کا حق رکھا ہے حالانکہ قرآن مجید میں مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:( اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرْضِ ۪ ) (9)
خرچ کرو اپنی پاک کمائیوں سے اور اُس سے کہ ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔جاری کرنے۔ 2۔۔۔۔۔۔وہ زمین جس کی پیداوار سے عشر ادا کرنا لازم ہو۔ 3۔۔۔۔۔۔بہارشریعت جلد 1 حصہ5 ملاحظہ فرمائیں۔ 4۔۔۔۔۔۔وہ زمین جس کی پیداوار سے خراج ادا کرنا لازم ہو ۔
5۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب العشر والخراج،مطلب:اراضی المملکۃ...إلخ،ج۶،ص۲۸۱.
6۔۔۔۔۔۔یعنی مسائل۔ 7۔۔۔۔۔۔بہت سے۔ 8۔۔۔۔۔۔شریعت اسلامیہ۔
9۔۔۔۔۔۔پ۳،البقرہ:۲۶۷.