Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
444 - 466
اور اِس صورت میں جو مال وغیر ہ وہاں سے لائے گا حلال ہے۔ (1) (شرح ملتقے) 

    مسئلہ ۴: مسلمان نے دارالحرب میں کا فر حربی کی رضا مندی سے کوئی مال حاصل کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں مثلاً ایک روپیہ دو روپے کے بدلے میں بیچا۔ یوہیں اگر اُس کو قرض دیا اور یہ ٹھہرا لیا کہ مہینہ بھر میں سوکے سواسو(2)لو ں گا یہ جائز ہے کہ کافر حربی کا مال جس طرح ملے لے سکتا ہے مگر معاہدہ کے خلاف کرنا حرام ہے۔ (3)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵: مسلمان دارالحرب میں امان(4) لیکر گیاہے اس نے کسی حربی کو قرض دیا یا کوئی چیز اس کے ہاتھ اُدھار بیچی یا حربی نے اس مسلمان کو قرض دیا یا اس کے ہاتھ کوئی چیز اُدھار بیچی یا ایک نے دوسرے کی کوئی چیز غصب کی پھر یہ دونوں دارالاسلام میں آئے تو قاضی شرع (5)ان میں باہم کوئی فیصلہ نہ کریگا ہاں اب یہاں آنے کے بعد اگر اس قسم کی بات ہوگی تو فیصلہ کیا جائیگا۔ یوہیں اگر دوحربی امان لیکر آئے اور دارالحرب میں ان کے درمیان اس قسم کا معاملہ ہواتھا تو ان میں بھی فیصلہ نہ کیا جائے گا ۔ (6)(درمختار) 

    مسئلہ ۶: مسلمان تاجر کویہ اجازت نہیں کہ لونڈی غلام بیچنے کے لیے دارالحرب جائے ہاں اگر خدمت کے لیے لے جانا چاہتا ہو تو اجازت ہے۔(7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۷: حربی امان لیکر دارالاسلام میں آیا تو پورے سال بھر یہاں رہنے نہ دینگے اور اُس سے کہہ د یا جائیگا کہ اگر تو یہاں سال بھر رہیگا تو جزیہ مقرر ہوگا اب اگر سال بھر رہ گیا تو جزیہ لیا جائیگا اور وہ ذمی ہوجائیگا اور اب دارالحرب جانے نہ دینگے، اگرچہ تجارت یا کسی اور کام کے لیے جانا چاہتا ہواور چلا گیا تو بدستور حربی ہوگیا اس کا خون مباح ہے۔ (8)(جوہرہ) 

    مسئلہ ۸: سال سے کم جتنی چاہے بادشاہ ِاسلام اس کے لیے مدت مقرر کر دے اور یہ کہہ دے کہ اگر تو اس مدت سے زیادہ ٹھہرا تو تجھ سے جزیہ لیا جائے گا اور اُس وقت وہ ذمی ہو جائیگا۔ (9)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۹: حربی امان لے کر آیا اور یہاں خراجی یا عُشری زمین خریدی اور خراج اُس پر مقرر ہو گیا تو اب ذمی ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''مجمع الانھرفی شرح ملتقی الأبحر''،کتاب السیروالجھاد،باب المستأمن،ج۲،ص۴۴۹. 

2۔۔۔۔۔۔سواسویعنی۱۲۵ ۔

3۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۲.
4۔۔۔۔۔۔یعنی جان ومال وغیرہ کی حفاظت کا معاہدہ ،پناہ۔

5۔۔۔۔۔۔اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرنے والا قاضی۔
6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۴. 

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب السادس فی المستأمن،الفصل الاول،ج۲،ص۲۳۳.

8۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب السیر،الجزء الثانی،ص۳۴۶.

9۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب السادس فی المستأمن،الفصل الثانی،ج۲،ص۲۳۴.
Flag Counter