| بہارِشریعت حصّہ نہم (9) |
یا مسلمانوں کا غلبہ ہوا اور اُس غلام کو وہاں سے حاصل کیا تو نہ کسی کو دیاجائے نہ غنیمت کی طرح تقسیم ہو بلکہ وہ آزاد ہے۔
یوہیں اگر حربی غلام مسلمان ہو گیا اور وہاں سے بھاگ کردارالاسلام میں آگیا یا ہمارا لشکر دارالحرب میں تھا اُس لشکر میں آگیا یا اُس کو کسی مسلمان یا ذمی یا حربی نے دارالحرب میں خریدلیا یا اُس کے مالک نے بیچنا چاہا یا مسلمانوں کا ان پر غلبہ ہوا بہر حال آزاد ہو گیا۔ (1)(درمختار)مستامن کا بیان
مستامن وہ شخص ہے جو دوسرے ملک میں امان لیکر گیا۔ دوسرے ملک سے مراد وہ ملک ہے جس میں غیر قوم کی سلطنت ہو یعنی حربی دارالاسلام میں یا مسلمان دارالکفرمیں امان لیکر گیا تو مستامن ہے۔ (2)
مسئلہ ۱: دارالحرب میں مسلمان امان لیکر گیا تو وہاں والوں کی جان ومال سے تعرض کرنا(3) اس پر حرام ہے کہ جب امان لی تو اُس کا پورا کرنا واجب ہے۔ یوہیں اُن کافروں کی عورتیں بھی اس پر حرام ہیں اور اگر مسلمان قید ہو کر گیا ہے تو کافروں کی جان ومال اس پر حرام نہیں اگرچہ کافروں نے خود ہی اُسے چھوڑ دیا ہو یعنی یہ اگر وہاں سے کوئی چیز لے آیا یا کسی کو مارڈ الا تو گنہگار نہیں کہ اس نے اُن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے جس کا خلاف کرنا جا ئز نہ ہو۔(4) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۲: مسلمان امان لے کر گیا اور وہاں سے کوئی چیز لے کر دارالاسلام میں چلا آیا تو اس شے کا اب مالک ہو گیا مگر یہ مِلکِ حرام وخبیث ہے کہ اس کو ایسا کرنا جائز نہ تھا لہٰذا حکم ہے کہ فقرا پر تصدق کر دے اور اگر تصدق نہ کیا اور اس شے کو بیچ ڈالا تو بیع صحیح ہے اور اگر اس نے وہاں نکاح کیا تھا اور عورت کو جبراً لایا تو دارالاسلام میں پہنچ کر نکاح جاتا رہا اور عورت کنیز ہوگئی۔ (5) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مسلمان امان لے کر دارالحرب کو گیا اور وہاں کے بادشاہ نے بد عہدی کی مثلاً اس کا مال لے لیا یا قید کرلیایادوسرے نے اس قسم کا کوئی معاملہ کیا اور بادشاہ کو اس کا علم ہوا اور تدارک(6)نہ کیا تو اب ان کے جان ومال سے تعرض کرے توگنہگار نہیں کہ بد عہدی اُن کی جانب سے ہے اِسکی جانب سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب استیلاء الکفار...إلخ،ج۶،ص۲۶۱. 2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۲. 3۔۔۔۔۔۔بے جا مداخلت۔ 4۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب السیر،الجزء الثانی،ص۳۴۵. و''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۲. 5۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب السیر،الجزء الثانی،ص۳۴۵. و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۳. 6۔۔۔۔۔۔تلافی ،پوچھ گچھ،ازالہ۔