مسئلہ ۲: اگر حربی کافرذِمی کو دارالاسلام سے پکڑلے گئے تو اس کے مالک نہ ہوں گے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳: حربی کافر اگر مسلمان کے اموال پر قبضہ کر کے دارالحرب میں لے گئے تو مالک ہو جائیں گے مگر جب تک دارالحرب کو پہنچ نہ جائیں مسلمانوں پر فرض ہے کہ اون کا پیچھا کریں اور اون سے چھین لیں۔ پھر جب کہ دارالحرب میں لے جانے کے بعد اگر وہ حربی جن کے پاس وہ اموال ہیں مسلمان ہو گئے تو اب بالکل ان کی مِلک ثابت ہو گئی کہ اب اون سے نہیں لیں گے اور اگر مسلمان اُن حر بیوں پر دارالحرب میں پہنچنے سے قبل غالب آگئے تو جس کی چیز ہے اوسے دیدیں گے اور کچھ معاوضہ نہ لیں گے اور دارالحرب میں پہنچنے کے بعد غلبہ ہوا اور غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے مالک نے آکر کہا کہ یہ چیز میری ہے تو اوسے بلامعاوضہ دیدینگے اور غنیمت تقسیم ہونے کے بعد کہا تو اب بقیمت دینگے اور جس دن غنیمت میں وہ چیز ملی اوس دن جوقیمت تھی وہ لی جائیگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴: کافرامان لیکر دارالاسلام میں آیا اور کسی مسلمان کی چیز چورا کر دارالحرب میں لے گیا اور وہاں سے کوئی مسلمان وہ چیز خرید کرلایا تو وہ چیز مالک کو مفت دلادی جائے گی۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اگر مسلمان غلام بھاگ کر دارالحرب کوچلا گیا اور حربیوں نے اوسے پکڑلیا تو مالک نہ ہونگے، لہٰذا اگر مسلمانوں کا غلبہ ہوا اور وہ غلام غنیمت میں ملا تو مالک کو بلا معاوضہ دیا جائے اگر چہ غنیمت تقسیم ہو چکی ہو ہاں تقسیم کے بعد اگر دلایا گیا تو جس کے حصہ میں غلام پڑا تھا اوسے بیت المال سے قیمت دیں۔ (4)(فتح)
مسئلہ ۶: مسلمان غلام بھاگ کر گیا اور اوس کے ساتھ گھو ڑا اور مال واسباب بھی تھا اور سب پر کافروں نے قبضہ کر لیا پھر اون سے سب چیزیں اور غلام کوئی شخص خرید لایا تو غلام بلا معاوضہ مالک کو دلایا جائے اور باقی چیزیں بقیمت اور اگر غلام مرتد ہو کر دارالحرب کو بھاگ گیا تو حربی پکڑنے کے بعد مالک ہو گئے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۷: جو کافرامان لیکر دارالاسلام میں آیا اوس کے ہاتھ مسلمان غلام نہ بیچا جائے اور بیچ دیا تو واپس لینا واجب ہے اور اگر واپس بھی نہ لیا یہاں تک کہ غلام کو لے کر دارالحرب کو چلا گیا تو اب وہ آزاد ہے یعنی وہ غلام اگر وہاں سے بھاگ کر آیا