اگر یہ لفظ کہے تھے کہ جو جس کافر کو قتل کریگا اوس مقتول کا سامان وہ لے اور خود بادشاہ یا سپہ سالار نے کسی کافر کو قتل کیا تو یہ سامان لے سکتا ہے اور یہ کہنا بھی جائز ہے کہ یہ سو روپے لو اور فلاں کافر کو مار ڈالو یا یوں کہ اگر تم نے فلاں کافر کومار ڈالا تو تمھیں ہزار روپے دونگا۔ لڑائی ختم ہونے اور غنیمت جمع کرنے کے بعد نفل دینا جائز نہیں ہاں اگر مناسب سمجھے تو خمس میں سے دے سکتا ہے۔(1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: جن لوگوں کو نفل (انعام) دینا کہا ہے اونھوں نے نہیں سنا اور وں نے سن لیا جب بھی اوس انعام کے مستحق ہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: دارالحرب میں لشکر ہے اس میں سے کچھ لوگ کہیں بھیجے گئے اور اون سے یہ کہدیا کہ جو کچھ تم پاؤ گے وہ سب تمھارا ہے تو جائز ہے اور اگر دارالاسلام سے یہ کہہ کر بھیجا تو ناجائز۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایسے کو قتل کیا جس کا قتل جائز نہ تھا مثلاً بچہ یا مجنون یا عورت کو تو مستحق انعام نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: نفل کایہ مطلب ہے کہ دوسرے لوگ اوس میں شریک نہ ہوں گے نہ یہ کہ یہ شخص ابھی سے مالک ہوگیا بلکہ مالک اوس وقت ہو گا جب دارالاسلام میں لائے، لہٰذا اگر لونڈی ملی تو جب تک دارالاسلام میں لانے کے بعد استبرا نہ کرے(5)، وطی نہیں کر سکتا، نہ اوسے فروخت کر سکتا ہے۔(6) (عامہ کتب)