اور تقسیم سے قبل ان سے شکار مکروہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جو جماعت بادشاہ سے اجازت لیکر دارالحرب میں گئی یا با قوت جماعت بغیر اجازت گئی اور شب خون مار کر(2) وہاں سے مال لائی تو یہ غنیمت ہے خمس لیکر باقی تقسیم ہوگا اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں یعنی نہ اجازت لی نہ باقوت جماعت ہے تو جو کچھ حاصل کیا سب انھیں کا ہے خمس نہ لیا جائے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: اگر کچھ لوگ اجازت سے گئے تھے اور کچھ بغیر اجازت اور یہ لوگ باقوت بھی نہ تھے تو اجازت والے جو کچھ مال پائیں گے اوس میں سے خمس لیکر باقی ان پر تقسیم ہو جائیگا اور دوسرے فریق نے جو کچھ حاصل کیا ہے اوس میں نہ خمس ہے نہ تقسیم بلکہ جس نے جتنا پا یا وہ اوسی کا ہے اوس کا ساتھ والا بھی اوس میں شریک نہیں۔ اور اگر اجازت والے اور بے اجازت دونوں مل گئے اور ان کے اجتماع سے قوت پیدا ہو گئی تو اب خمس لیکر غنیمت کی مثل تقسیم ہو گی یعنی ایک نے بھی جو کچھ پایا ہے وہ سب پر تقسیم ہو جائیگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: غنیمت کی تقسیم ہوئی اور تھوڑی سی چیز باقی رہ گئی جو قابل تقسیم نہیں کہ لشکر بڑا ہے اور چیز تھوڑی تو با دشاہ کو اختیار ہے کہ فقرا پر تصدق کر دے یا بیت المال میں جمع کر دے کہ ضرورت کے وقت کام آئے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اجازت لیکر ایک جماعت دارالحرب کو گئی اور اوس سے بادشاہ نے کہہ دیا کہ تم جو کچھ پاؤ گے وہ سب تمھارا ہے اوس میں خمس نہیں لونگا تو اگر وہ جماعت باقوت ہے تو اوس کایہ کہنا جائز نہیں یعنی خمس لیا جائیگا اور باقوت نہ ہو تو کہنا جائز ہے اور خمس نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: بادشاہ یا سپہ سالار(7) اگر لڑائی کے پہلے یا جنگ کے وقت کچھ سپاہیوں سے یہ کہدے کہ تم جو کچھ پاؤ گے وہ تمھارا ہے یا یوں کہ تم میں جو جس کافر کو قتل کرے اوس کا سامان اوس کے لیے ہے تو یہ جائز بلکہ بہتر ہے کہ اس کی وجہ سے اون سپاہیوں کو ترغیب ہوگی۔ اور اس کو نفل کہتے ہیں اور اس میں نہ خمس ہے نہ تقسیم بلکہ وہ سب اوسی پانے والے کا ہے۔