Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
438 - 466
جب بھی اوتنا ہی ملے گا جتنا ایک گھوڑے کے لیے ملتا تھا۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۲: سوار دوچند غنیمت کا اس وقت مستحق ہوگا جب دارالاسلام سے جدا ہونے کے وقت اوس کے پاس گھوڑا ہو لہٰذا جوشخص دارالحرب میں بغیر گھوڑے کے آیا اور وہاں گھوڑا خرید لیا تو پیدل کا حصہ پائے گا اور اگر گھوڑا تھا مگر وہاں پہنچ کر مرگیا تو سوار کا حصہ پائے گا اور سوار کے دو چند(2) حصہ پانے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اوس کا گھوڑا مریض نہ ہو اور بڑا ہو یعنی لڑائی کے قابل ہواور اگر گھوڑا بیمار تھا اور غنیمت سے قبل اچھا ہو گیا تو سوار کا حصہ پائے گا ورنہ نہیں اور اگر بچھیرا(3) تھا اور غنیمت کے قبل جوان ہوگیا تو نہیں اور اگر گھوڑا لیکر چلا مگر سرحد پر پہنچنے سے پہلے کسی نے غصب کر لیا یا کوئی دوسرا شخص اوس پر سواری لینے لگایا گھوڑا بھاگ گیا اور یہ شخص دارالحرب میں پیدل داخل ہوا تو اگر ان صورتوں میں لڑائی سے پہلے اوسے وہ گھوڑا مل گیا تو سوار کا حصہ پائے گا ورنہ پیدل کا اور اگر لڑائی سے پہلے یا جنگ کے وقت گھوڑا بیچ ڈالاتو پیدل کا حصہ پائے گا۔(4) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳: سوار کے لیے یہ ضرور نہیں کہ گھوڑا اوس کی ملک ہو بلکہ کرایہ یا عاریت سے لیا ہو (5) بلکہ اگر غصب کرکے (6) لے گیا جب بھی سوار کا حصہ پائیگااور غصب کا گناہ اوس پر ہے اور اگر دوشخصوں کی شرکت میں گھوڑا ہے تو ان میں کوئی سوار کا حصہ نہیں پائیگا مگر جبکہ داخل ہونے سے پہلے ایک نے دوسرے سے اوس کا حصہ کرایہ پر لے لیا۔ (7)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴: غلام اور بچہ اور عورت اور مجنون کے لیے حصہ نہیں ہاں خمس نکالنے سے پہلے پوری غنیمت میں سے انھیں کچھ دیدیا جائے جو حصہ کے برابر نہ ہو مگر اوس وقت کہ انھوں نے قتال کیا ہو یا عورت نے مجاہدین کا کام کیا ہو مثلاً کھانا پکانا بیماروں اور زخمیوں کی تیمارداری کرنا اون کو پانی پلانا وغیرہ۔ (8)(درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: غنیمت کا پانچواں حصہ جو نکالا گیا ہے اوس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ یتیموں کے لیے اور ایک مسکینوں اور ایک مسافروں كے لیے اور اگر یہ تینوں حصے ایک ہی قسم مثلاً یتامیٰ(9)یا مساکین پر صرف کردیے(10)جب بھی جائز ہے اور مجاہدین کو حاجت ہو تو ان پر صرف کرنا بھی جائز ہے۔(11)(درمختار)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''کتاب السیر،الباب الرابع، الفصل الثانی فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۲۱۲.
2۔۔۔۔۔۔یعنی دگنا۔

3۔۔۔۔۔۔گھوڑی کا بچہ۔
4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجہاد، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۳۲۔۲۳۴.
5۔۔۔۔۔۔یعنی جنگ کے لیے مانگ کر لایا ہو۔

6۔۔۔۔۔۔چھین کر۔
7۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،مطلب: مخالفۃ الامیرحرام،ج۶،ص۲۳۳.

8۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۳۵.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم و قسمتھا،الفصل الثانی،ج ۲،ص ۲۱۴.
9۔۔۔۔۔۔یتیموں۔

10۔۔۔۔۔۔خرچ کر دیے۔
11۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۳۷.
Flag Counter