اگر مسلمان ہوا تو وہ غلام ہے۔ اور اگر مسلمان ہونے سے پہلے اُس کے بچے اور اموال پر قبضہ ہوگیا اور وہ گرفتاری سے پہلے مسلمان ہوگیا تو صرف وہ آزاد ہے اور اگر حربی امن لیکر دارالاسلام میں آیا تھا اور یہاں مسلمان ہو گیا پھر مسلمان اُس کے شہر پر غالب آئے تو بال بچے اور اموال سب فئے ہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا اور اُس نے پیشتر(2) سے کچھ مال کسی مسلمان یا ذمی کے پاس امانت رکھ دیا تھا تو یہ مال بھی اُس کوملے گا اور حربی کے پاس تھا تو فئے ہے اور اگر دارالحرب میں مسلمان ہو کر دارالاسلام میں چلا آیا پھر مسلمانوں کا اُس شہر پر تسلط(3) ہوا تو اُس کے چھوٹے بچے محفوظ رہیں گے اور جو اموال اُس نے مسلمان یا ذمی کے پاس امانت رکھے ہیں وہ بھی اُسی کے ہیں باقی سب فئے ہے۔(4) (درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۱: جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا تو اوسکی بالغ اولاد اور زوجہ اور زوجہ کے پیٹ میں جوبچہ ہے وہ اور جائداد غیر منقولہ (5)اور اوس کے باندی غلام لڑنے والے اور اس باندی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ، یہ سب غنیمت ہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: جو حربی دارالاسلام میں بغیر امان لیے آگیا اور اسے کسی نے پکڑ لیا تو وہ اور اُس کے ساتھ جو کچھ مال ہے سب فئے ہے۔(7) (درمختار)