اور تیل لگانے کی ضرورت ہو تو کھانے کا تیل لگا سکتا ہے اور خوشبودار تیل مثلاً روغنِ گُل(1) وغیرہ اُس وقت استعمال کر سکتا ہے جب کسی مرض میں اس کے استعمال کی حاجت ہو اور گوشت کھانے کے جانور ذبح کرسکتے ہیں مگر چمڑا مالِ غنیمت میں واپس کریں۔ اور مجاہدین اپنی باندی ،غلام اور عورتوں بچوں کوبھی مالِ غنیمت سے کھلا سکتے ہیں۔ اور جو شخص تجارت کے لیے گیا ہے لڑنے کے لیے نہیں گیا وہ اور مجاہدین کے نوکر مال غنیمت کو صرف(2) نہیں کرسکتے ہاں پکا ہوا کھانا یہ بھی کھاسکتے ہیں۔ اور پہلے سے اشیاء اپنے پاس رکھ لینا کہ ضرورت کے وقت صرف کرینگے ناجائز ہے۔ یوہیں جوچیز کام کے لیے لی تھی اور بچ گئی اوسے بیچنا بھی ناجائز ہے اور بیچ ڈالی تودام(3) واپس کرے۔ (4)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مال غنیمت کوبیچنا جائز نہیں اور بیچا تو چیز واپس لی جائے اور وہ چیز نہ ہو تو قیمت مال غنیمت میں داخل کرے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۷: دارالحرب سے نکلنے کے بعد اب تصرف جائز نہیں، ہاں اگر سب مجاہدین کی رضا سے ہو تو حرج نہیں اور جو چیزیں دارالحرب میں لی تھیں اون میں سے کچھ بچا ہے اور اب دارالاسلام میں آگیا تو بقیہ واپس کر دے اور واپسی سے پہلے غنیمت تقسیم ہوچکی تو فقرا پر تصدق کردے(6) اور خود فقیر ہو تو اپنے کام میں لائے اور اگر دارالاسلام میں پہنچنے کے بعد بقیہ کو صرف کر ڈالا ہے تو قیمت واپس کرے اور غنیمت تقسیم ہو چکی ہے تو قیمت تصدق کردے اور خود فقیر ہو تو کچھ حاجت نہیں۔ (7)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸: مالِ غنیمت میں قبلِ تقسیم خیانت کرنا منع ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۹: جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گیا وہ خود اور اوس کے چھوٹے بچے اور جو کچھ اوس کے پاس مال ومتاع(9) ہے سب محفوظ ہیں یہ جبکہ اسلام لانا گرفتار کرنے سے پہلے ہو اور اسکے بعد کہ سپاہیوں نے اوسے گرفتار کیا