نہ کہے کہ مُجھے تین طلاقیں ہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: عورت سے کہا اپنے کو تو طلاق دیدے جیسی تو چاہے تو عورت کو اختیار ہے بائن دے یا رجعی ایک دے یا دو یا تین مگر مجلس بدلنے کے بعد اختیار نہ رہے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: اگر کہا تو چاہے تو اپنے کو طلاق دیدے اور تو چاہے تو میری فلاں بی بی کو طلاق دیدے تو پہلے اپنے کو طلاق دے یا اُس کو دونوں مُطلقہ ہو جائیں گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: عورت سے کہا تو جب چاہے اپنے کو ایک طلاق بائن دیدے پھر کہا تو جب چاہے اپنے کو ایک وہ طلاق دے جس میں رجعت کا میں مالک رہوں عورت نے کچھ دنوں بعد اپنے کو طلاق دی تو رجعی ہوگی اور شوہر کے پچھلے کلام کا جواب سمجھا جائیگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے اگر تو ارادہ کرے یا پسند کرے یا خواہش کرے یا محبوب رکھے جواب میں کہا میں نے چاہا یا ارادہ کیا ہوگئی۔ یوہیں اگر کہا تجھے موافق آئے جواب میں کہا میں نے چاہا ہوگئی اور جواب میں کہا میں نے محبوب رکھا تونہ ہوئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: عورت سے کہا اگر تو چاہے تو تجھ کو طلاق ہے جواب میں کہا ہاں یا میں نے قبول کیا یا میں راضی ہوئی واقع نہ ہوئی اور اگر کہا تو اگر قبول کرے تو تجھ کو طلاق ہے جواب میں کہا میں نے چاہی تو ہوگئی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے اگر توچاہے ،جواب میں کہا میں نے چاہا اگر تو چاہے، مرد نے بہ نیتِ طلاق کہا میں نے چاہا، تو واقع نہ ہوئی اور اگر مرد نے آخر میں کہا میں نے تیری طلاق چاہی تو ہوگئی جبکہ نیت بھی ہو۔(7) (ہدایہ) اگر عورت نے جواب میں کہا میں نے چاہا اگر فلاں بات ہوئی ہو کسی ایسی چیز کے ليے جو ہو چکی ہو یا اُس وقت موجود ہو مثلاًاگر