غالب نہ ہو افطار نہ کرے، اگرچہ مؤذن نے اذان کہہ دی ہے اور اَبر کے دنوں میں افطار میں جلدی نہ چاہیے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: ایک عادل کے قول پر افطار کرسکتا ہے، جب کہ اس کی بات سچی مانتا ہو اور اگر اس کی تصدیق نہ کرے تو اس کے قول کی بنا پر افطار نہ کرے۔ یوہیں مستور کے کہنے پر بھی افطار نہ کرے اور آج کل اکثر اسلامی مقامات میں افطار کے وقت توپ چلنے کا رواج ہے، اس پر افطار کر سکتا ہے، اگرچہ توپ چلانے والے فاسق ہوں جب کہ کسی عالم محقق توقیت دان محتاط فی الدین کے حکم پر چلتی ہو۔(2)
آج کل کے عام علما بھی اس فن سے ناواقف محض ہیں اور جنتریاں کہ شائع ہوتی ہیں اکثر غلط ہوتی ہیں ان پر عمل جائز نہیں۔ یوہیں سحری کے وقت اکثر جگہ نقارہ بجتا ہے، انھیں شرائط کیساتھ اس کا بھی اعتبار ہے اگرچہ بجانے والے کیسے ہی ہوں۔
مسئلہ ۱۷: سحری کے وقت مرغ کی اذان کا اعتبار نہیں کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ صبح سے بہت پہلے اذان شروع کر دیتے ہیں، بلکہ جاڑے کے دنوں میں تو بعض مرغ دو بجے سے اذان کہنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ اس وقت صبح ہونے میں بہت وقت باقی رہتا ہے۔ یوہیں بول چال سُن کر اورروشنی دیکھ کر بولنے لگتے ہیں۔ (3) (ردالمحتار مع زیادۃ)
مسئلہ ۱۸: صبح صادق کو رات کامطلقاً چھٹا یا ساتواں حصہ سمجھنا غلط ہے، رہا یہ کہ صبح کس وقت ہوتی ہے اُسے ہم حصہ سوم باب الاوقات میں بیان کر آئے وہاں سے معلوم کریں۔