Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
999 - 1029
غالب نہ ہو افطار نہ کرے، اگرچہ مؤذن نے اذان کہہ دی ہے اور اَبر کے دنوں میں افطار میں جلدی نہ چاہیے۔ (1) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۶: ایک عادل کے قول پر افطار کرسکتا ہے، جب کہ اس کی بات سچی مانتا ہو اور اگر اس کی تصدیق نہ کرے تو اس کے قول کی بنا پر افطار نہ کرے۔ یوہیں مستور کے کہنے پر بھی افطار نہ کرے اور آج کل اکثر اسلامی مقامات میں افطار کے وقت توپ چلنے کا رواج ہے، اس پر افطار کر سکتا ہے، اگرچہ توپ چلانے والے فاسق ہوں جب کہ کسی عالم محقق توقیت دان محتاط فی الدین کے حکم پر چلتی ہو۔(2) 

    آج کل کے عام علما بھی اس فن سے ناواقف محض ہیں اور جنتریاں کہ شائع ہوتی ہیں اکثر غلط ہوتی ہیں ان پر عمل جائز نہیں۔ یوہیں سحری کے وقت اکثر جگہ نقارہ بجتا ہے، انھیں شرائط کیساتھ اس کا بھی اعتبار ہے اگرچہ بجانے والے کیسے ہی ہوں۔ 

    مسئلہ ۱۷: سحری کے وقت مرغ کی اذان کا اعتبار نہیں کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ صبح سے بہت پہلے اذان شروع کر دیتے ہیں، بلکہ جاڑے کے دنوں میں تو بعض مرغ دو بجے سے اذان کہنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ اس وقت صبح ہونے میں بہت وقت باقی رہتا ہے۔ یوہیں بول چال سُن کر اورروشنی دیکھ کر بولنے لگتے ہیں۔ (3) (ردالمحتار مع زیادۃ) 

    مسئلہ ۱۸: صبح صادق کو رات کامطلقاً چھٹا یا ساتواں حصہ سمجھنا غلط ہے، رہا یہ کہ صبح کس وقت ہوتی ہے اُسے ہم حصہ سوم باب الاوقات میں بیان کر آئے وہاں سے معلوم کریں۔
سحری و اِفطار کا بیان
    حدیث ۱: بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سحری کھاؤ کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔'' (4) 

    حدیث ۲: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن خزیمہ عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں فرق سحری کا لقمہ ہے۔'' (5) 

    حدیث ۳: طبرانی نے کبیر میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم... إلخ، مطلب في حدیث التوسعۃ علی العیال... إلخ، ج۳، ص۴۵۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في جواز الإفطار التحری، ج۳، ص۴۳۹، وغیرہ. 

3۔۔۔۔۔۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، بابرکۃ السحور من غیر ایجاب، الحدیث: ۱۹۲۳، ج۱، ص۶۳۳. 

5۔۔۔۔۔۔ '' صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل السحور... إلخ، الحدیث: ۱۰۹۶، ص۵۵۲.
Flag Counter