غروب تک مؤخر کرے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: روزہ دار کے لیے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے۔ کلی میں مبالغہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بھر مونھ پانی لے اور وضو و غسل کے علاوہ ٹھنڈ پہنچانے کی غرض سے کلی کرنا یا ناک میں پانی چڑھانا یا ٹھنڈ کے لیے نہانا بلکہ بدن پر بھیگا کپڑا لپیٹنا مکروہ نہیں۔ ہاں اگر پریشانی ظاہر کرنے کے لیے بھیگا کپڑا لپیٹا تو مکروہ ہے کہ عبادت میں دل تنگ ہونا اچھی بات نہیں۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۰: پانی کے اندر (3) ریاح خارج کرنے سے روزہ نہیں جاتا، مگر مکروہ ہے اور روزہ دار کو استنجے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے۔ (4) (عالمگیری) یعنی اور دِنوں میں حکم یہ ہے کہ استنجا کرنے میں نیچے کو زور دیا جائے اور روزہ میں یہ مکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۱: مونھ میں تھوک اکٹھا کر کے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی ناپسند ہے اور روزہ میں مکروہ۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: رمضان کے دنوں میں ایسا کام کرنا جائز نہیں، جس سے ایسا ضعف آجائے کہ روزہ توڑنے کا ظن غالب ہو۔ لہٰذا نانبائی کو چاہیے کہ دوپہر تک روٹی پکائے پھر باقی دن میں آرام کرے۔ (6) (درمختار) یہی حکم معمار و مزدور اورمشقت کے کام کرنے والوں کا ہے کہ زیادہ ضعف کا اندیشہ ہو تو کام میں کمی کر دیں کہ روزے ادا کرسکیں۔
مسئلہ ۱۳: اگر روزہ رکھے گا تو کمزور ہو جائے گا، کھڑے ہو کر نما ز نہ پڑھ سکے گا تو حکم ہے کہ روزہ رکھے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔ (7) (درمختار) جب کہ کھڑا ہونے سے اتنا ہی عاجز ہو جو باب صلاۃالمریض میں گزرا۔
مسئلہ ۱۴: سحری کھانا اور اس میں تاخیر کرنا مستحب ہے، مگر اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ صبح ہوجانے کا شک ہو جائے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے، مگر افطار اس وقت کرے کہ غروب کا غالب گمان ہو، جب تک گمان