یوں ہو تو کراہت کیسی روزہ ہی جاتا رہے گا، بلکہ کفارہ کے شرائط پائے جائیں تو کفارہ بھی لازم ہوگا۔ بلکہ چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پررکھ کر مزہ دریافت کر لیں اور اُسے تھوک دیں اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے۔
مسئلہ ۳: کوئی چیز خریدی اور اس کا چکھنا ضروری ہے کہ نہ چکھے گا تو نقصان ہوگا، تو چکھنے میں حرج نہیں ورنہ مکروہ ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴: بلاعذر چکھنا جو مکروہ بتایا گیا یہ فرض روزہ کا حکم ہے نفل میں کراہت نہیں، جبکہ اس کی حاجت ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: عورت کا بوسہ لینا اور گلے لگانا اور بدن چھونا مکروہ ہے، جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ انزال ہو جائے گا یا جماع میں مبتلا ہوگا اور ہونٹ اورزبان چوسنا روزہ میں مطلقاً (3) مکروہ ہے۔ یوہیں مباشرت فاحشہ۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: گلاب یا مشک وغیرہ سونگھنا داڑھی مونچھ میں تیل لگانا اور سُرمہ لگانامکروہ نہیں، مگر جبکہ زینت کے لیے سُرمہ لگایا یا اس لیے تیل لگایا کہ داڑھی بڑھ جائے، حالانکہ ایک مُشت (5) داڑھی ہے تو یہ دونوں باتیں بغیر روزہ کے بھی مکروہ ہیں اور روزہ میں بدرجہ اَولیٰ۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷: روزہ میں مسواک کرنا مکروہ نہیں، بلکہ جیسے اور دنوں میں سنّت ہے روزہ میں بھی مسنون ہے۔ مسواک خشک ہو یا تر اگرچہ پانی سے تَر کی ہو، زوال سے پہلے کرے یا بعد کسی وقت مکروہ نہیں۔ (7) (عامہ کتب) اکثر لوگوں میں مشہور ہے کہ دوپہر بعد روزہ دار کے لیے مسواک کرنا مکروہ ہے، یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔
مسئلہ ۸: فصد کھلوانا، پچھنے لگوانا مکروہ نہیں جب کہ ضعف کا اندیشہ نہ ہو اور اندیشہ ہو تو مکروہ ہے، اُسے چاہیے کہ