کرنے والے ایسے کہ انھیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔'' (1) اور اُسی کے مثل طبرانی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی۔
حدیث ۵ و ۶: بیہقی ابو عبیدہ اور طبرانی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ سپر ہے، جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی، کس چیز سے پھاڑے گا؟ ارشاد فرمایا: جھوٹ یا غیبت سے۔'' (2)
حدیث ۷: ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے اور پینے سے باز رہنا ہو، روزہ تویہ ہے کہ لغو و بیہودہ باتوں سے بچا جائے۔'' (3)
حدیث ۸: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روزہ دار کو مباشرت کرنے کے بارے میں سوال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے انھیں اجازت دی پھر ایک دوسرے صاحب نے حاضر ہوکر یہی سوال کیا تو انھیں منع فرمایا اور جن کو اجازت دی تھی، بوڑھے تھے اور جن کو منع فرمایا: جوان تھے۔'' (4)
حدیث ۹: ابو داود و ترمذی عامر بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے بے شمار بار نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو روزہ میں مسواک کرتے دیکھا۔ (5)
مسئلہ ۱: جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بیہودہ بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔
مسئلہ ۲: روزہ دار کو بلاعذر کسی چیز کا چکھنا یا چبانا مکروہ ہے۔ چکھنے کے لیے عذر یہ ہے کہ مثلاً عورت کا شوہر یا باندی غلام کا آقا بدمزاج ہے کہ نمک کم و بیش ہوگا تو اس کی ناراضی کا باعث ہوگا اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں، چبانے کے لیے یہ عذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں جو اُسے کھلائی جائے، نہ حیض و نفاس والی یا کوئی اور بے روزہ ایسا ہے جو اُسے چبا کر دیدے، تو بچہ کے کھلانے کے لیے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں۔ (6) (درمختار وغیرہ)
چکھنے کے وہ معنی نہیں جو آج کل عام محاورہ ہے یعنی کسی چیز کا مزہ دریافت کرنے کے لیے اُس میں سے تھوڑا کھا لینا کہ