Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
995 - 1029
ایک دن کا بھی چھوٹ گیا تو اب سے ساٹھ ۶۰ روزے رکھے، پہلے کے روزے محسوب نہ ہوں گے اگرچہ اُنسٹھ ۵۹ رکھ چکا تھا، اگرچہ بیماری وغیرہ کسی عذر کے سبب چُھوٹا ہو، مگر عورت کوحیض آجائے تو حیض کی وجہ سے جتنے ناغے ہوئے یہ ناغے نہیں شمار کیے جائیں گے یعنی پہلے کے روزے اور حیض کے بعد والے دونوں مِل کر ساٹھ ۶۰ ہو جانے سے کفارہ ادا ہوجائے گا۔ (1) (کتب کثیرہ) 

    مسئلہ ۲۶: اگر دو روزے توڑے تو دونوں کے لیے دو کفارے دے، اگرچہ پہلے کا ابھی کفارہ نہ ادا کیا ہو۔ (2) (ردالمحتار) یعنی جب کہ دونوں دو رمضان کے ہوں اور اگر دونوں روزے ایک ہی رمضان کے ہوں اور پہلے کا کفارہ ادا نہ کیا ہو تو ایک ہی کفارہ دونوں کے لیے کافی ہے۔ (3) (جوہرہ) 

    کفارہ کے متعلق دیگر جزئیات کتاب الطلاق باب الظہار میں انشاء اﷲ تعالیٰ معلوم ہوں گی۔ 

    مسئلہ ۲۷: آزاد و غلام، مرد و عورت، بادشاہ وفقیر سب پر روزہ توڑنے سے کفارہ واجب ہوتا ہے، یہاں تک کہ باندی کو اگر معلوم تھا کہ صبح ہوگئی اُس نے اپنے آقا کو خبر دی کہ ابھی صبح نہ ہوئی اس نے اس کے ساتھ جماع کیا تو لونڈی پرکفارہ واجب ہوگا اور اُس کے مولیٰ پر صرف قضا ہے کفارہ نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
روزہ کے مکروہات کا بیان
    حدیث ۱ و ۲: بخاری و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بُری بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے ،تو اﷲ تعالیٰ کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔'' (5) اور اسی کے مثل طبرانی نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ 

    حدیث ۳ و ۴: ابن ماجہ و نسائی و ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی ودارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انھیں روزہ سے سوا پیاس کے کچھ نہیں اور بہت سے رات میں قیا م
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۷. 

و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۵۹۵،وغیرہما. 

2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۲. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۷. 

5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب من لم یدع قول الزور والعمل بہٖ في الصوم، الحدیث: ۱۹۰۳، ج۱، ص۶۲۸.
Flag Counter