مسئلہ ۱۹: دوسرے نے نوالہ چبا کر دیا، اُس نے کھا لیا یا اُس نے خود اپنے مونھ سے نکال کر کھا لیا تو کفارہ نہیں۔ (1) (عالمگیری) بشرطیکہ اس کے چبائے ہوئے کو لذات یا تبرک نہ سمجھتا ہو۔
مسئلہ ۲۰: سحری کا نوالہ مونھ میں تھا کہ صبح طلوع ہوگئی یا بھول کر کھا رہا تھا، نوالہ مونھ میں تھا کہ یاد آگیا اور نگل لیا تو دونوں صورتوں میں کفارہ واجب، مگر جب مونھ سے نکال کر پھر کھایا ہو تو صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: عورت نے نابالغ یا مجنون سے وطی کرائی یا مرد کو وطی کرنے پر مجبور کیا ،تو عورت پر کفارہ واجب ہے مرد پر نہیں۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: مُشک، زعفران، کافور، سرکہ کھایا یا خرپزہ، تربز، ککڑی، کھیرا، باقلا کا پانی پیا تو کفارہ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: رمضان میں روزہ دار قتل کے لیے لایا گیا اُس نے پانی مانگا، کسی نے اُسے پانی پلا دیا پھر وہ چھوڑ دیا گیا تو اُس پر کفارہ واجب ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: باری سے بخار آتا تھا اورآج باری کا دن تھا۔ اُس نے یہ گمان کر کے کہ بخار آئے گا روزہ قصداً توڑ دیا تو اس صورت میں کفارہ ساقط ہے۔ (6) یوہیں عورت کو معیّن تاریخ پر حیض آتا تھا اورآج حیض آنے کا دن تھا، اُس نے قصداً روزہ توڑ دیا اور حیض نہ آیا تو کفارہ ساقط ہوگیا۔ یوہیں اگر یقین تھا کہ دشمن سے آج لڑنا ہے اور روزہ توڑ ڈالا اور لڑائی نہ ہوئی تو کفارہ واجب نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو ایک رقبہ یعنی باندی یا غلام آزاد کرے اور یہ نہ کر سکے مثلاً اس کے پاس نہ لونڈی غلام ہے، نہ اتنا مال کہ خریدے یا مال تو ہے مگر رقبہ میسر نہیں جیسے آج کل یہاں ہندوستان میں، تو پے درپے ساٹھ روزے رکھے، یہ بھی نہ کرسکے تو ساٹھ ۶۰ مساکین کو بھر بھر پیٹ دونوں وقت کھانا کھلائے اور روزے کی صورت میں اگر درمیان میں