ہوگا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: وہ کام کیا جس سے کفارہ واجب ہوتا ہے پھر بادشاہ نے اُسے سفر پر مجبور کیا کفارہ ساقط نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: مرد کو مجبور کر کے جماع کرایا یا عورت کو مرد نے مجبور کیا پھر اثنائے جماع میں اپنی خوشی سے مشغول رہا یا رہی تو کفّارہ لازم نہیں کہ روزہ تو پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے۔ (3) (جوہرہ) مجبوری سے مراد اکراہِ شرعی ہے، جس میں قتل یا عضو کاٹ ڈالنے یا ضربِ شدید (4) کی صحیح دھمکی دی جائے اور روزہ دار بھی سمجھے کہ اگر میں اس کا کہا نہ مانوں گا تو جو کہتا ہے، کر گزرے گا۔
مسئلہ ۷: کفارہ واجب ہونے کے لیے بھر پیٹ کھانا ضرور نہیں، تھوڑا سا کھانے سے بھی واجب ہو جائے گا۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: تیل لگایا یا غیبت کی پھر یہ گمان کر لیا کہ روزہ جاتا رہا یا کسی عالم ہی نے روزہ جانے کا فتویٰ دے دیا، اب اس نے کھا پی لیا جب بھی کفّارہ لازم ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۹: قے آئی یا بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا اور ان سب صورتوں میں اسے معلوم تھا کہ روزہ نہ گیا پھر اس کے بعد کھا لیا تو کفّارہ لازم نہیں اور اگر احتلام ہوا اور اسے معلوم تھا کہ روزہ نہ گیا پھر کھا لیا تو کفّارہ لازم ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: لعاب تھوک کر چاٹ گیا یا دوسرے کا تھوک نگل گیا تو کفّارہ نہیں، مگر محبوب کا لذت یا معظم دینی (8) کا تبرک کے لیے تھوک نگل گیاتو کفّارہ لازم ہے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱ ۱: جن صورتوں میں روزہ توڑنے پرکفّارہ لازم نہیں ان میں شرط ہے ،کہ ایک ہی بار ایسا ہوا ہو اور معصیت کا قصد نہ کیا ہو، ورنہ اُن میں کفّارہ دینا ہوگا۔ (10) (درمختار)