مسئلہ ۴: مسافر نے اقامت کی، حیض و نفاس والی پاک ہوگئی، مجنون کو ہوش ہوگیا، مریض تھا اچھا ہوگیا، جس کا روزہ جاتا رہا اگرچہ جبراً کسی نے توڑوا دیا یا غلطی سے پانی وغیرہ کوئی چیز حلق میں جا رہی۔ کافر تھا مسلمان ہوگیا، نابالغ تھا بالغ ہوگیا، رات سمجھ کر سحری کھائی تھی حالانکہ صبح ہو چکی تھی، غروب سمجھ کر افطار کر دیا حالانکہ دن باقی تھا ان سب باتوں میں جو کچھ دن باقی رہ گیا ہے، اُسے روزے کے مثل گزارنا واجب ہے اور نابالغ جو بالغ ہوا یا کافر تھا مسلمان ہوا اُن پر اس دن کی قضا واجب نہیں باقی سب پر قضا واجب ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵: نابالغ دن میں بالغ ہوا یا کافر دن میں مسلمان ہوا اور وہ وقت ایسا تھا کہ روزہ کی نیّت ہوسکتی ہے اور نیّت کر بھی لی پھر وہ روزہ توڑ دیا تو اس دن کی قضا واجب نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: بچہ کی عمر دس ۱۰ سال کی ہو جائے اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اس سے روزہ رکھوایا جائے نہ رکھے تو مار کر رکھوائیں، اگر پوری طاقت دیکھی جائے اور رکھ کر توڑ دیا تو قضا کا حکم نہ دیں گے اور نماز توڑے تو پھر پڑھوائیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حیض و نفاس والی عورت صبح صادق کے بعد پاک ہوگئی، اگرچہ ضحوہ کبریٰ سے پیشتر اور روزہ کی نیت کر لی تو آج کا روزہ نہ ہوا، نہ فرض نہ نفل اور مریض یا مسافر نے نیّت کی یا مجنون تھا ہوش میں آکر نیّت کی تو ان سب کاروزہ ہوگیا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۸: صبح سے پہلے یا بھول کر جماع میں مشغول تھا، صبح ہوتے ہی یا یاد آنے پر فوراً جدا ہوگیا تو کچھ نہیں اور اسی حالت پر رہا تو قضا واجب ہے کفارہ نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: میّت کے روزے قضا ہوگئے تھے تو اُس کا ولی اس کی طرف سے فدیہ ادا کر دے یعنی جب کہ وصیت کی اور مال چھوڑا ہو، ورنہ ولی پر ضروری نہیں کر دے تو بہتر ہے۔