ڈورے سے کچھ رطوبت جُدا ہو کر مونھ میں رہی اور تھوک نگل لیا تو روزہ جاتا رہا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: آنسو مونھ میں چلا گیا اور نگل لیا، اگر قطرہ دو قطرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اس کی نمکینی پورے مونھ میں محسوس ہوئی تو جاتا رہا۔ پسینہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: پاخانہ کا مقام باہر نکل پڑا تو حکم ہے کہ کپڑے سے خوب پونچھ کر اُٹھے کہ تری بالکل باقی نہ رہے اوراگر کچھ پانی اُس پر باقی تھا اور کھڑا ہوگیا کہ پانی اندر کو چلا گیا تو روزہ فاسد ہوگیا۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ دار استنجا کرنے میں سانس نہ لے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: عورت کا بوسہ لیا یا چُھوا یا مباشرت کی یا گلے لگایا اوراِنزال ہوگیا تو روزہ جاتا رہا اور عورت نے مرد کو چُھوا اور مرد کو انزال ہوگیا تو روزہ نہ گیا۔ عورت کو کپڑے کے اوپر سے چُھوا اور کپڑا اتنا دبیز ہے کہ بدن کی گرمی محسوس نہیں ہوتی تو فاسد نہ ہوا اگرچہ انزال ہوگیا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: قصداً بھر مونھ قے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو مطلقاً روزہ جاتا رہا اور اس سے کم کی تو نہیں اور بلا اختیار قے ہوگئی تو بھر مونھ ہے یا نہیں اور بہر تقدیر وہ لوٹ کر حلق میں چلی گئی یا اُس نے خود لوٹائی یا نہ لوٹی، نہ لوٹائی تو اگر بھر مونھ نہ ہو تو روزہ نہ گیا، اگرچہ لوٹ گئی یا اُس نے خود لوٹائی اور بھر مونھ ہے اور اُس نے لوٹائی، اگرچہ اس میں سے صر ف چنے برابر حلق سے اُتری تو روزہ جاتا رہا ورنہ نہیں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: قے کے یہ احکام اُس وقت ہیں کہ قے میں کھانا آئے یا صفرا (6) یا خون اوربلغم آیا تو مطلقاً روزہ نہ ٹوٹا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: رمضان میں بلا عذر جو شخص علانیہ قصداً کھائے تو حکم ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔ (8) (ردالمحتار)