مسئلہ ۱۳: کسی نے خود تو چاند نہیں دیکھا، مگر دیکھنے والے نے اپنی شہادت کا گواہ بنایا تو اُس کی شہادت کا وہی حکم ہے جو چاند دیکھنے والے کی گواہی کا ہے، جبکہ شہادۃ علی الشہادۃ کے تمام شرائط پائے جائیں۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: اگر مطلع صاف ہو تو جب تک بہت سے لوگ شہادت نہ دیں چاند کا ثبوت نہیں ہوسکتا، رہا یہ کہ اس کے لیے کتنے لوگ چاہیے یہ قاضی کے متعلق ہے، جتنے گواہوں سے اُسے غالب گمان ہو جائے حکم دیدے گا، مگر جب کہ بیرونِ شہر یا بلند جگہ سے چاند دیکھنا بیان کرتا ہے تو ایک مستور کا قول بھی رمضان کے چاند میں قبول کر لیا جائے گا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: جماعتِ کثیرہ کی شرط اُس وقت ہے جب روزہ رکھنے یا عید کرنے کے لیے شہادت گزرے اور اگر کسی اور معاملہ کے لیے دو مرد یا ایک مرد اوردو عورتوں ثقہ کی شہادت گزری اورقاضی نے شہادت کی بنا پر حکم دے دیا تو اب یہ شہادت کافی ہے۔ روزہ رکھنے یا عیدکرنے کے لیے بھی ثبوت ہوگیا، مثلاً ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ میرا اس کے ذمہ اتنا دَین ہے اور اس کی میعادیہ ٹھہری تھی کہ جب رمضان آجائے تو دَین ادا کر دے گا اور رمضان آگیا مگر یہ نہیں دیتا۔ مدعی علیہ (3) نے کہا، بیشک اس کا دَین میرے ذمّہ ہے اور میعاد بھی یہی ٹھہری تھی، مگر ابھی رمضان نہیں آیا اس پر مدعی نے دو گواہ گزارے جنھوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی، قاضی نے حکم دے دیا کہ دَین ادا کر، تو اگرچہ مطلع صاف تھا اور دو ۲ ہی کی گواہیاں ہوئیں، مگراب روزہ رکھنے اور عید کرنے کے حق میں بھی یہی دو گواہیاں کافی ہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: یہاں مطلع صاف تھا، مگر دوسری جگہ ناصاف تھا، وہاں قاضی کے سامنے شہادت گزری، قاضی نے چاند ہونے کا حکم دیا، اب دو یا چند آدمیوں نے یہاں آکر جہاں مطلع صاف تھا، اس بات کی گواہی دی کہ فلاں قاضی کے یہاں دو شخصوں نے فلاں رات میں چاند دیکھنے کی گواہی دی اور اس قاضی نے ہمارے سامنے حکم دے دیا اور دعوے کے شرائط بھی پائے جاتے ہیں تویہاں کا قاضی بھی ان شہادتوں کی بنا پر حکم دیدے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: اگر کچھ لوگ آکر یہ کہیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا، بلکہ اگر شہادت بھی دیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا، بلکہ اگر یہ شہادت دیں کہ فلاں فلاں نے دیکھا، بلکہ اگر یہ شہادت دیں کہ فلاں جگہ کے قاضی نے روزہ یا افطار کے لیے لوگوں سے کہا یہ سب طریقے ناکافی ہیں۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)