پنج شنبہ کو روزے رکھے، اس کے لیے دوزخ سے براء ت لکھ دی جائے گی۔'' (1)
حدیث ۴۰تا۴۲: طبرانی اوسط میں انھیں سے راوی، کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے چہار شنبہ و پنجشنبہ و جمعہ کو روزے رکھے، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنائے گا، جس کا باہر کا حصہ اندر سے دکھائی دے گا اور اندر کا باہر سے۔'' (2)
اور انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے، کہ ''جنت میں موتی اور یاقوت و زبرجد کا محل بنائے گا اور اس کے لیے دوزخ سے برأت لکھ دی جائے گی۔'' (3)
اور ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کی روایت میں ہے، کہ ''جو ان تین دنوں کے روزے رکھے پھر جمعہ کو تھوڑا یا زیادہ تصدق کرے تو جو گناہ کیا ہے، بخش دیا جائے گا اور ایسا ہو جائے گا جیسے اُس دن کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔'' (4) مگر خصوصیت کے ساتھ جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث ۴۳: مسلم و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے لیے اور دِنوں میں جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کرو، ہاں کوئی کسی قسم کا روزہ رکھتا تھا اور جمعہ کا دن روزہ میں واقع ہوگیا تو حرج نہیں۔'' (5)
حدیث ۴۴: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ انھیں سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جمعہ کے دن کوئی روزہ نہ رکھے، مگر اس صورت میں کہ اس کے پہلے یا بعد ایک دن اور روزہ رکھے۔'' (6) اور ابن خزیمہ کی روایت میں ہے، ''جمعہ کا دن عید ہے، لہٰذا عید کے دن کور وزہ کا دن نہ کرو، مگر یہ کہ اس کے قبل یا بعد روزہ رکھو۔'' (7)
حدیث ۴۵: صحیح بخاری و مسلم میں محمد بن عباد سے ہے کہ جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے، میں نے ان سے پوچھا، کیا نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جمعہ کے روزہ سے منع فرمایا؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم۔ (8)