حدیث ۱۷: طبرانی و ابن حبان معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''شعبان کی پندرھویں شب میں اﷲ عزوجل تمام مخلوق کی طرف تجلّی فرماتاہے اور سب کو بخش دیتا ہے، مگر کافر اور عداوت والے کو۔'' (1)
حدیث ۱۸ و ۱۹: بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''میرے پاس جبرئیل آئے اور یہ کہا: یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے، اس میں اﷲ تعالیٰ جہنم سے اتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب (2) کے بکریوں کے بال ہیں، مگر کافر اور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کی مداومت کرنے والے کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔'' (3) امام احمد نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے جو روایت کی، اس میں قاتل کا بھی ذکر ہے۔
حدیث ۲۰: بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ عزوجل شعبان کی پندرھویں شب میں تجلّی فرماتا ہے، استغفار کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور طالبِ رحمت پر رحم فرماتا ہے اور عداوت والوں کو جس حال پر ہیں، اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔'' (4)
حدیث ۲۱: ابن ماجہ مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اُس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ رب تبارک و تعالیٰ غروبِ آفتاب سے آسمان دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسے بخش دوں، ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی