| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
دیتا ہے۔'' (1) اور اس کے مثل سہل بن سعد و ابوسعید خدری و عبداﷲ بن عمرو زید بن ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۱۱: ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے بیہقی و طبرانی روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عرفہ کے روزہ کو ہزار دن کے برابر بتاتے۔ (2) مگر حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے، اُسے عرفہ کے دن کا روزہ مکروہ ہے۔ کہ ابو داود و نسائی و ابن خزیمہ و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (3)(۳) شوال میں چھ دن کے روزے (4) جنھیں لوگ شش عید کے روزے کہتے ہیں۔
حدیث ۱۲ و ۱۳: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و طبرانی ابو ایوب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو ایسا ہے جیسے دہر کا روزہ رکھا۔'' (5) اور اسی کے مثل ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔
حدیث ۱۴ و ۱۵: نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ وابن حبان ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور امام احمد و طبرانی و بزار جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکھ لیے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے دس ملیں گی تو ماہِ رمضان کا روزہ دس مہینے کے برابر ہے اور ان چھ دنوں کے بدلے میں دو مہینے تو پورے سال کے روزے ہوگئے۔'' (6)
حدیث ۱۶: طبرانی اوسط میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا، جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔'' (7)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۱۱۶۲، ص۵۸۹. 2۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۶۸۰۲، ج۵، ص۱۲۷. 3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب في صوم یوم عرفۃ بعرفۃ، الحدیث: ۲۴۴۰، ج۲، ص۴۷۹. 4۔۔۔۔۔۔ بہتر یہ ہے کہ یہ روزے متفرق رکھے جائیں اور عید کے بعد لگاتار چھ دن میں ایک ساتھ رکھ لیے، تب بھی حرج نہیں۔ کذا فی الدر ۱۲ منہ 5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال اتباعا لرمضان، الحدیث: ۱۱۶۴، ص۵۹۲. 6۔۔۔۔۔۔ ''السنن الکبری'' للنسائي، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، الحدیث: ۲۸۶۰ ۔ ۲۸۶۱، ج۲، ص۱۶۲۔۱۶۳. 7۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۸۶۲۲، ج۶، ص۲۳۴.