| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
حدیث ۲: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کاروزہ ہے اور فرض کے بعد افضل نماز صلاۃ اللّیل ہے۔'' (1) 0
حدیث ۳: صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دے کر جستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ عاشورا کا دن اور یہ رمضان کا مہینہ۔ (2)
حدیث ۴: صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے، یہود کو عاشورا کے دن روزہ دار پایا، ارشاد فرمایا: یہ کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ عرض کی، یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسیٰ علیہ الصلاۃ و السّلام اور اُن کی قوم کو اﷲ تعالیٰ نے نجات دی اور فرعون اور اُس کی قوم کو ڈبو دیا، لہٰذا موسیٰ علیہ السّلام نے بطور شکر اُس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: موسیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمھارے ہم زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں تو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے خود بھی روزہ رکھا اور اُس کا حکم بھی فرمایا۔ (3)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مجھے اﷲ (عزوجل) پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے۔'' (4)(۲) عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کا روزہ۔
حدیث ۶تا۱۰: صحیح مسلم و سنن ابی داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ میں ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مجھے اﷲ (عزوجل) پر گمان ہے، کہ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، الحدیث: ۱۱۶۳، ص۵۹۱.
2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء، الحدیث: ۲۰۰۶، ج۱، ص۶۵۷.
3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء، الحدیث: ۱۲۸۔(۱۱۳۰)، ص۵۷۱.
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ عزوجل کوئی خاص نعمت عطا فرمائے اس کی یادگار قائم کرنا درست و محبوب ہے کہ وہ نعمت خاصہ یاد آئیگی اور اس کا شکر ادا کرنے کا سبب ہوگا۔ خود قرآنِ عظیم میں ارشاد فرمایا: ( وَذَکِّرْھُمْ بِاَیـّٰمِ اللہِ ) (پ۱۳، ابرٰہیم: ۵)
''خدا کے انعام کے دنوں کو یاد کرو۔''
اور ہم مسلمانوں کے لیے ولادت اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کون سا دن ہوگا، جس کی یادگار قائم کریں کہ تمام نعمتیں انہیں کےطفیل میں ہیں اور یہ دن عید سے بھی بہتر کہ انہیں کے صدقہ میں تو عید عید ہوئی اسی وجہ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کا سبب ارشاد فرمایا:
کہ ((فِیْہِ وُلِدْتُ)) (''صحیح مسلم''،کتاب الصیام، الحدیث:۱۹۸۔(۱۱۶۲)،ص۵۹۱) اس دن میری ولادت ہوئی۔ ۱۲ منہ
4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۱۱۶۲، ص۵۸۹.