مسئلہ ۳۲: اُس کی کسی بھائی نے دعوت کی تو ضحوہ کبریٰ کے قبل روزہ نفل توڑ دینے کی اجازت ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: عورت بغیر شوہر کی اجازت کے نفل اور منّت و قسم کے روزے نہ رکھے اور رکھ لیے تو شوہر توڑوا سکتا ہے مگر توڑے گی تو قضا واجب ہوگی، مگر اس کی قضا میں بھی شوہر کی اجازت درکار ہے یا شوہر اور اُس کے درمیان جدائی ہو جائے یعنی طلاق بائن دیدے یا مر جائے ہاں اگر روزہ رکھنے میں شوہر کا کچھ حرج نہ ہو مثلاً وہ سفر میں ہے یا بیمار ہے یا احرام میں ہے تو ان حالتوں میں بغیر اجازت کے بھی قضا رکھ سکتی ہے، بلکہ اگر وہ منع کرے جب بھی اور ان دنوں میں بھی بے اس کی اجازت کے نفل نہیں رکھ سکتی۔ رمضان اور قضائے رمضان کے لیے شوہر کی اجازت کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ اس کی ممانعت پر بھی رکھے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: باندی غلام بھی علاوہ فرائض کے مالک کی اجازت بغیر نہیں رکھ سکتے۔ ان کا مالک چاہے تو توڑوا سکتا ہے۔ پھر اُس کی قضامالک کی اجازت پر یا آزاد ہونے کے بعد رکھیں۔ البتہ غلام نے اگر اپنی عورت سے ظہار کیا تو کفارہ کے روزے بغیر مولیٰ کی اجازت کے رکھ سکتا ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: مزدور یا نوکر اگر نفل روزہ رکھے تو کام پورا ادا نہ کر سکے گا تو مستاجر یعنی جس کا نوکر ہے یا جس نے مزدوری پر اُسے رکھا ہے، اُس کی اجازت کی ضرورت ہے اور کام پورا کر سکے تو کچھ ضرورت نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: لڑکی کو باپ اور ماں کو بیٹے اور بہن کو بھائی سے اجازت لینے کی کچھ ضرورت نہیں اور ماں باپ اگر بیٹے کو روزہ نفل سے منع کر دیں، اس وجہ سے کہ مرض کا اندیشہ ہے تو ماں باپ کی اطاعت کرے۔ (5) (ردالمحتار)